مواد پر جائیں

افغانستان اور پاکستان کی کشیدگی کم کرنے میں روس کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

اینڈریو کوریبکو کی 8 اکتوبر 2026 کی تحریر «Russia Hinted At What An Afghan-Pakistani De-Escalation Agreement Could Look Like» کا مارگلہ نیوز کے لیے مستقل اردو خلاصہ؛ اصل مضمون کا ربط اور مصنف کی رائے واضح ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

3 منٹ مطالعہ

8 اکتوبر کے مضمون میں اینڈریو کوریبکو نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور افغانستان کے لیے روسی نمائندے ضمیر کابلوف کے بیانات کی بنیاد پر افغان پاکستانی کشیدگی کم کرنے کا ایک ممکنہ راستہ بیان کیا۔ مصنف اسے اپنی تعبیر کے طور پر پیش کرتے ہیں، ماسکو کا اعلان کردہ امن معاہدہ نہیں۔

ان کے تجزیے میں دہشت گردی سے متعلق باہمی الزامات کم کرنا، سرحدی نگرانی میں تعاون، تجارتی روابط کی بحالی اور باہمی سفارتی اعتماد قائم کرنا اہم ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی جامع سمجھوتے کے لیے کابل اور اسلام آباد دونوں کو ایسے امور پر بات کرنا ہوگی جن پر طویل عرصے سے اختلاف ہے۔

کوریبکو اس ممکنہ مفاہمت کو خطے میں ریلوے اور تجارتی راستوں کے وسیع روسی تصور سے جوڑتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خود تسلیم کیا کہ ثالثی یا تصفیے کے لیے متعلقہ حکومتوں کی رضامندی درکار ہے۔ ان کی تجاویز کو کسی سرکاری سفارتی پیش رفت کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماسکو کے متعلقہ بیانات سے کوریبکو نے جو ممکنہ افغان پاکستانی سمجھوتہ اخذ کیا، اس کا پہلا مسئلہ فریقوں کی بنیادی تشخیص کا اختلاف ہے۔ پاکستان حملوں کے لیے ٹی ٹی پی کی موجودگی کو مرکزی مسئلہ بتاتا ہے، جبکہ کابل پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور اس کے مختلف الزامات کو اپنی خودمختاری سے جوڑتا ہے۔ اس لیے کسی مشترکہ بیان سے پہلے اصطلاحات پر اتفاق بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

مذاکرات میں ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کے متنازع واقعات کے لیے مشترکہ تکنیکی رابطہ مقرر کیا جائے۔ کسی حملے کے وقوع، حملہ آوروں کے مبینہ راستوں اور مطلوبہ قانونی کارروائیوں کے بارے میں قابلِ جانچ معلومات کا تبادلہ عمومی الزام تراشی سے زیادہ مؤثر ہوگا۔

کوریبکو کی جانب سے داعش اور ٹی ٹی پی کی اصطلاحات کے استعمال پر خصوصی احتیاط درکار ہے۔ دونوں تنظیمیں الگ ہیں، ان کے مقاصد، قیادت اور تشدد کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ سفارتی سہولت کے لیے انہیں ایک ہی تنظیم کہنا درست حقیقت نگاری نہیں ہوگا۔

ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ محض سرحدی باڑ تک محدود نہیں۔ اس میں افغان قوم پرستی، پاکستانی ریاستی موقف اور دونوں جانب آباد خاندانوں کے معاشی و سماجی روابط شامل ہیں۔ کوئی بھی عملی انتظام مقامی آبادی کی ضروریات سے مکمل لاتعلق ہو تو نئی شکایات جنم لے سکتی ہیں۔

سرحدی نگرانی کے نظام میں شہریوں کی آمدورفت، تجارت اور مریضوں کی نقل و حرکت کے لیے پیشگی استثنا اور واضح قانونی راستے ضروری ہوں گے۔ اگر انتظام صرف فوجی سلامتی کے پیمانے سے بنایا جائے تو مقامی لوگوں کی مشکلات اعتماد کو مزید کم کر سکتی ہیں۔

روس کی ممکنہ ثالثی کو اسی وقت سنجیدہ عملی عمل کہا جاسکتا ہے جب افغانستان اور پاکستان دونوں رسمی طور پر مدد قبول کریں۔ کسی روسی وزیر کے عمومی بیان کو ثالثی کے مکمل منصوبے یا طے شدہ سمجھوتے کی تصدیق سمجھنا غلط ہوگا۔

تجارتی و ریلوے منصوبوں کی بحالی طویل مدت میں باہمی مفاد پیدا کر سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے مسلسل جنگ بندی، قابلِ اعتماد مالی انتظامات اور حملوں کے بعد رابطہ قائم رکھنے کی ضمانتیں لازم ہیں۔ کوریبکو کا تجزیہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے، حتمی پیش رفت کی خبر نہیں۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور اصل ناشر کے تحقیقی کام کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی جامع اردو تجزیاتی تحریر ہے، کسی محفوظ مضمون کی مکمل نقل یا لفظ بہ لفظ ترجمانی نہیں۔ اصل تحریر کا حوالہ ماخذ میں درج ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/korybko-russia-afghan-pakistan-deescalation-2026?lang=ur