اینڈریو کوریبکو نے 7 اکتوبر کی تحریر میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مجوزہ علاقائی دفاعی تعاون پر روسی نقطہ نظر کا جائزہ لیا۔ بعض تجزیہ کار اس تصور کے لیے غیررسمی اصطلاح اسلامی نیٹو استعمال کرتے ہیں، لیکن اسے نیٹو جیسا مکمل فعال فوجی اتحاد یا ثابت شدہ مشترکہ کمان تصور نہیں کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وسیع علاقائی سلامتی تعاون کے امکان پر مثبت بات کی، خصوصاً اس صورت میں جب ایران کو بھی شامل کیا جا سکے۔ دوسری جانب کوریبکو کا تجزیہ ہے کہ ترکی کے نیٹو سے تعلقات اور خطے میں اس کی سرگرمیاں روس کے لیے طویل مدتی خدشات پیدا کرسکتی ہیں۔
مصنف پاکستان اور ترکی کے امریکی سلامتی روابط کو بھی اس بحث سے جوڑتے ہیں۔ تاہم روسی حکومت کا رسمی مؤقف اور کوریبکو کی جانب سے متوقع خطرات کی تشریح ایک ہی چیز نہیں۔ مضمون میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ بنیادی طور پر مستقبل کی ممکنہ علاقائی صف بندی سے متعلق ہے۔
اسلامی نیٹو کی اصطلاح سیاسی گفتگو میں استعمال ہوسکتی ہے، مگر نیٹو کے باقاعدہ قانونی معاہدے، مشترکہ دفاعی ذمہ داری اور مستقل فوجی نظام کے ساتھ ہر علاقائی تعاون کو یکساں سمجھنا درست نہیں۔ پہلے دیکھنا ہوگا کہ مجوزہ تعاون کے باضابطہ متن میں اجتماعی دفاع، فیصلہ سازی اور رکن ممالک کی ذمہ داریاں کس حد تک موجود ہیں۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے سلامتی مفادات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس کی علاقائی ترجیحات شام، بحیرہ اسود اور وسطی ایشیا تک پھیلی ہیں۔ سعودی عرب خلیجی سلامتی اور ایران سے تعلقات کے تناظر میں اپنے فیصلے کرتا ہے، جبکہ پاکستان کی توجہ اپنی سرحدوں اور داخلی سلامتی پر بھی مرکوز ہے۔
کوریبکو کا تجزیہ روس کے لیے ترکی کی مختلف خطوں میں بڑھتی موجودگی کو اہم سمجھتا ہے۔ ماسکو اور انقرہ بعض معاملات میں تعاون کرتے ہیں تو دوسرے موضوعات پر اختلاف رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی تجارتی یا دفاعی انتظام کے تمام نتائج کو ایک ہی دوستانہ یا مخالفانہ خانہ نہیں دیا جاسکتا۔
ایران کی شمولیت کا امکان الگ نوعیت کی پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تاریخ اور موجودہ حالات سے جڑے متعدد اختلافات ہیں۔ کسی وسیع اجتماعی نظام کو عملی بنانے کے لیے سیاسی اعتماد، مشترکہ قواعد اور علاقائی تنازعات کے طریقہ حل درکار ہوں گے۔
پاکستان کے امریکا سے موجودہ تعلقات کا حوالہ دے کر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام آباد کا ہر علاقائی دفاعی قدم روس مخالف ہے۔ ایسے نتیجے کے لیے معاہدے کی واضح عملی شرائط، بیرونی فوجی موجودگی یا فوجی کارروائی کے مخصوص ریکارڈ کی ضرورت ہوگی۔
علاقائی سلامتی کے کسی بھی نئے انتظام کا ایک عملی پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا وہ شہریوں کو تحفظ، سرحدی تنازعات میں کمی اور غیرقانونی مسلح گروہوں کے خلاف تعاون فراہم کرتا ہے۔ صرف اتحاد کا نام یا نمایاں سیاسی تصاویر پائیدار استحکام کا ثبوت نہیں۔
کوریبکو کی تحریر ممکنہ روسی تشویش کا ایک تجزیاتی زاویہ ہے۔ روسی حکومت کے اعلان کردہ مؤقف کو ان کے ذاتی خدشات اور مستقبل کی پیش گوئیوں سے الگ پڑھنا ضروری ہے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور اصل ناشر کے تحقیقی کام کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی جامع اردو تجزیاتی تحریر ہے، کسی محفوظ مضمون کی مکمل نقل یا لفظ بہ لفظ ترجمانی نہیں۔ اصل تحریر کا حوالہ ماخذ میں درج ہے۔
