7 اکتوبر کو اینڈریو کوریبکو نے روس کی جنوبی ایشیا پالیسی سے متعلق سات نکات پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس، پاکستان، بھارت اور افغانستان کے ساتھ الگ الگ مفادات کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور خطے میں کسی ایک ملک کے خلاف محاذ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کرتا۔ یہ کوریبکو کی تشریح ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس کی طرف سے طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کے دعوے کے حق میں کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا؛ روسی افغان تکنیکی تعاون کا بتایا گیا دائرہ روسی ساختہ سامان کی مرمت ہے۔ مضمون میں داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان فرق، افغان پاکستانی کشیدگی، تجارتی راہداریوں، کشمیر اور روس بھارت تعاون پر بھی بات کی گئی۔
کوریبکو کے مطابق روس پاکستان اور امریکا کے پرانے فوجی تعلقات کو تسلیم کرتا ہے، لیکن افغانستان یا اس کے آس پاس مغربی فوجی تنصیبات کی ممکنہ واپسی پر تحفظات رکھتا ہے۔ مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ افواہوں کے بجائے سفارت کاری اور ماہرین کے درمیان بات چیت کو ترجیح دی جائے۔
روس کی جنوبی ایشیا پالیسی کو ایک ہی اتحاد کے ذریعے بیان کرنا مشکل ہے۔ ماسکو بھارت کے ساتھ دیرینہ دفاعی و تجارتی تعاون رکھتا ہے، پاکستان سے رابطے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور افغانستان میں طالبان انتظامیہ سے سلامتی اور معاشی رابطے چاہتا ہے۔ ان تعلقات میں ایک دوسرے سے متصادم مفادات بھی موجود رہتے ہیں۔
کوریبکو کے سات نکات کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کسی ملک سے روس کا تعلق بڑھنا لازماً دوسرے کے خلاف منصوبہ نہیں۔ تاہم یہ نتیجہ سرکاری پالیسی کی ضمانت نہیں؛ ہر مخصوص معاہدے اور اقدام کا الگ جائزہ ضروری ہے۔
افغانستان سے روس کی قربت میں داعش خراسان سے متعلق تشویش کو مصنف اہم سمجھتے ہیں۔ لیکن طالبان کے ساتھ تعاون، ٹی ٹی پی کی موجودگی اور دیگر مسلح تنظیموں کے درمیان تعلقات پیچیدہ ہیں۔ کسی ایک تنظیم کے خلاف تعاون سے باقی تنظیموں کے بارے میں طالبان کی پالیسی خودبخود واضح نہیں ہو جاتی۔
کشمیر اور بھارت پاکستان کشیدگی روس کی علاقائی حکمت عملی کو مزید حساس بناتی ہے۔ روس بھارت تعلقات پرانا اور وسیع دائرہ رکھتے ہیں، مگر سفارتی سطح پر ماسکو دونوں ملکوں میں جنگ سے گریز کا بھی خواہاں رہا ہے۔ ثالثی یا مفاہمت کا کوئی امکان متعلقہ حکومتوں کی رضامندی کے بغیر عملی شکل نہیں لے سکتا۔
روس پاکستان معاشی تعلقات میں توانائی، ریلوے اور زمینی تجارت کے امکانات موجود ہیں۔ ان منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سرمایہ کاری، محفوظ راہداریاں اور شفاف معاہدے ضروری ہیں۔ سیاسی بیانات یا مجوزہ نقشے خودبخود تجارت بڑھنے کا ثبوت نہیں۔
کوریبکو نے امریکا سے بھارت اور پاکستان کے فوجی تعلقات کو مختلف زاویوں سے دیکھا۔ تاہم کسی ملک کے امریکا سے روابط ہونے کا مطلب لازمًا روس مخالف سرگرمی میں شرکت نہیں۔ اصل سوال مخصوص معاہدوں اور ان کے عملی علاقائی اثرات کا ہے۔
اس تجزیے کے نتائج کو جانچنے کا بہتر طریقہ اصل روسی سرکاری بیانات، دو طرفہ معاہدوں اور آزاد سلامتی تحقیق کا تقابلی جائزہ ہے۔ سفارتی اختلافات کو درست نام دینے سے غیرمصدقہ عسکری سازشوں کی کہانیاں کمزور پڑتی ہیں۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور ان کے اصل ناشر کی تحقیق کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا مستقل جامع اردو تجزیہ ہے، مکمل انگریزی مضمون کا ترجمہ یا دوبارہ اشاعت نہیں۔ سیاسی اور اختلافی دعوے صرف متعلقہ ماخذ سے منسوب ہیں۔ اصل تحریر کا لنک ماخذ میں محفوظ ہے۔
