پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
بیان کے مطابق کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر عملی عملدرآمد کی طرف فوری طور پر بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فراہمی کے اقدامات کرنے اور منظور شدہ انتظامات اور قومی قوانین کے مطابق سعودی عرب میں ان کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ فریقین نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی شہروں، شہری اور معاشی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
ڈان کی 6 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت حوثیوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی افواج شامل ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی اور ترک افواج معاون کردار ادا کر رہی ہیں اور پاکستان جاسوسی و نگرانی کے کام میں شریک ہے۔
