رائٹرز نے ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب میں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد مملکت کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں سعودی دفاعی نظام کی مدد کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوجی مختلف مرحلوں میں سعودی عرب پہنچے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے بعض دستے گزشتہ سال سے تعینات کیے گئے جبکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد بھی مزید دستے پہنچے ہیں۔
اسی پاکستانی عہدیدار کے مطابق اسلام آباد نے پاکستانی فوجیوں کو یمن کے اندر براہِ راست لڑاکا کردار دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ رائٹرز نے مزید لکھا کہ پاکستانی وزارتِ دفاع نے اس فوجی معاونت سے متعلق سوالات پر فوری جواب نہیں دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کے تناظر میں اپنی سرحدوں، تیل تنصیبات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اتحادی ممالک سے معاونت لے رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی تعاون پر بھی حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے۔
30 سے 40 ہزار فوجیوں کی تعداد رائٹرز کی رپورٹ میں ایک پاکستانی عہدیدار سے منسوب ہے اور اسے پاکستان کی جانب سے کسی الگ عوامی سرکاری اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
