نئی دہلی: ٹیک کرنچ کے مطابق بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کا ڈیجیٹل بازو جیو پلیٹ فارمز ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر تک جمع کرنے جا رہا ہے، جو بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا آئی پی او ہو سکتا ہے۔
ریلائنس انڈسٹریز نے بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی دستاویز میں بتایا کہ 27 کروڑ نئے شیئرز کے لیے قیمت کی حد 1,065 سے 1,119 بھارتی روپے فی شیئر رکھی گئی ہے۔ اینکر سرمایہ کاروں کے لیے بولی 19 اکتوبر کو ہوگی جبکہ عام سبسکرپشن 21 اکتوبر کو کھل کر 23 اکتوبر کو بند ہوگی۔
ٹیک کرنچ کے مطابق قیمت کی بالائی حد پر جیو کی مجموعی مالیت تقریباً 10.3 ٹریلین بھارتی روپے یعنی لگ بھگ 108 ارب 30 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ 2020 میں کمپنی کی مالیت 65 ارب ڈالر تک لگائی گئی تھی، جب فیس بک (اب میٹا) نے 5 ارب 70 کروڑ اور گوگل نے 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔
یہ پیشکش قیمت کی نچلی حد پر بھی 2024 میں ہنڈائی موٹر انڈیا کے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کے آئی پی او کا ریکارڈ توڑ دے گی۔ 2016 میں لانچ ہونے والی جیو 31 مارچ تک 52 کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کے ساتھ بھارت کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے اور اب براڈ بینڈ اور کلاؤڈ سروسز تک پھیل چکی ہے۔
پراسپیکٹس کے مطابق جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں جیو کی آمدن سالانہ بنیاد پر تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 391.7 ارب بھارتی روپے (تقریباً 4 ارب 10 کروڑ ڈالر) جبکہ خالص منافع 9 فیصد اضافے سے 77.6 ارب روپے (تقریباً 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) رہا۔ کمپنی آئی پی او کی آمدن میں سے 275 ارب روپے تک اپنی ذیلی کمپنی ریلائنس جیو انفوکام کا قرض اتارنے پر خرچ کرے گی۔
ٹیک کرنچ کے مطابق یہ آئی پی او ایسے وقت آ رہا ہے جب ایلون مسک نے امبانی پر سٹارلنک کو بھارت سے باہر رکھنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے تنقید تیز کر دی ہے، جبکہ بھارتی حکام ان دعوؤں کو مسترد کر چکے ہیں۔
