پکتیا / کرم: افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کو صوبہ پکتیا کے ضلع ڈنڈ پٹان میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ افغان فورسز اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان کے ضلع کرم کے بالمقابل ہے۔
طلوع نیوز کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 2 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور ایک پاکستانی نگرانی کیمرہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ ادارے نے بعد میں ایک ویڈیو بھی جاری کی جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس میں پاکستانی جانب کا ایک گیٹ اور سکیورٹی ٹاور حملے کی زد میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغان ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے رہائشی علاقوں اور 'چپری' نامی مقامی بازار پر راکٹ داغے۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، تاہم ڈیورنڈ لائن کے قریب رہنے والے درجنوں خاندان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ طلوع نیوز کے مطابق پکتیا کے ضلع آریوب زازی میں بھی دوپہر کے قریب جھڑپیں شروع ہوئیں جو سہ پہر تک جاری رہیں، جہاں بھی کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
افغان خبر رساں ادارے پژواک نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ لڑائی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ڈنڈ پٹان کے قیمتی، ژوره اور نری علاقوں میں شروع ہوئی، اور ان ذرائع نے بھی پاکستانی جانب 2 افراد کی ہلاکت اور ایک نگرانی ٹاور اور کیمرہ تباہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس سے قبل آریانا نیوز نے جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستانی مؤقف: سما ٹی وی نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغان طالبان نے اپر کرم کے تائدہ سیکٹر اور غوز گڑھی میں مبینہ طور پر "خارجی دہشت گردوں" کو سرحد پار کرانے کے لیے بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا۔ ان ذرائع کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں متعدد افغان طالبان اہلکار ہلاک ہوئے، ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو آرٹلری سے نشانہ بنایا گیا، شپولا کیمپ مکمل تباہ ہو گیا اور طالبان نے ایک سرحدی چوکی خالی کر دی۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے اپنے کسی جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، اور اس خبر کے شائع ہونے تک آئی ایس پی آر یا افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ دونوں جانب کے ہلاکتوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی سرحدی علاقے میں 10 اور 11 اکتوبر کو بھی دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
اصل رپورٹس: طلوع نیوز، طلوع نیوز ویڈیو، پژواک اور سما ٹی وی۔
