مواد پر جائیں

فاٹا کی حیثیت پر بحث سے معدنیات پر شکوک بڑھیں گے: فضل

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق فاٹا کو دوبارہ وفاق کے انتظام میں دینے پر غور کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبائلی عوام میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ نظر علاقے کی معدنیات پر ہے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

قبائلی اضلاع کی آئینی حیثیت ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ وار مانیٹر کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو دوبارہ وفاقی انتظام میں دینے سے متعلق مشاورت پر حکومت کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

"سکیورٹی کی آڑ میں وسائل پر کنٹرول" کا خدشہ

وار مانیٹر نے ان سے منسوب بیانات کے حوالے سے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کے بقول فاٹا کی انتظامی حیثیت پر نئے سرے سے غور سے مقامی لوگوں میں یہ شک جنم لے سکتا ہے کہ بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کو علاقے کے معدنی وسائل پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کا جواز بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عوام کو اس بارے میں مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا جا رہا کہ پاکستان کے قدرتی وسائل تک عالمی طاقتوں کو کس حد تک رسائی دی جا سکتی ہے۔

2018 کا انضمام "غلطی" قرار دینے کا دعویٰ

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ 2018 میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بارے میں قبائلی عمائدین سے مشاورت کی گئی تھی، جس میں شریک افراد اس بات پر متفق تھے کہ انضمام ایک غلطی تھی اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ جے یو آئی (ف) شروع سے فاٹا انضمام کی مخالف رہی ہے۔

یہ ان کا اپنا مؤقف ہے۔ وار مانیٹر کے مطابق مذکورہ مشاورت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور حکومت کی جانب سے انضمام واپس لینے کا کوئی باضابطہ فیصلہ بھی سامنے نہیں آیا۔ حکومت نے ان بیانات پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-wm-fazlur-rehman-fata-status-minerals-concern?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں