اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منگل کو 21 توپوں کی سلامی نے ایک ایسے دورے کا آغاز کیا جس کا انتظار گیارہ برس سے تھا۔ جیو نیوز کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
صدر معیزو کے ہمراہ خاتونِ اول ساجدہ محمد اور کابینہ کے وزرا و اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ خارجہ عروتھشام آدم کی قیادت میں وفد کا ایک حصہ اسی روز پہلے اسلام آباد پہنچا تھا۔
دورے کا شیڈول
وزیرِ اعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق بدھ کو مہمان صدر کا وزیرِ اعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبال کیا جائے گا۔ وہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دیں گے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی رابطوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات تلاش کریں گے۔
کاروباری فورم اور معاہدے
دورے کے دوران پاکستان مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد ہوگا، جس کا مقصد دونوں ملکوں کی کاروباری برادری کو قریب لانا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
سفارتی تعلقات کے 60 برس
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ مالدیپ کے صدارتی دفتر کے مطابق یہ تعلقات 26 جولائی 1966 کو قائم ہوئے تھے، اور یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی دوطرفہ رابطہ ہے۔
