وار مانیٹر کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (جے) نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات کے ایک پورے سلسلے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے، سکیورٹی اہلکاروں کا اغوا، شاہراہوں کی بندش اور گاڑیوں پر قبضہ شامل ہیں۔
وار مانیٹر نے یہ تفصیلات ایک اور مانیٹرنگ پلیٹ فارم انسرجنٹ زون کے حوالے سے شائع کی ہیں اور واضح کیا ہے کہ ان میں سے کسی دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ سرکاری سطح پر بھی ان واقعات کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
کن علاقوں کا ذکر ہے؟
گروہ کے بیانات کے مطابق چاغی کے علاقے دالبندین میں ایک گاڑی قبضے میں لے کر نذرِ آتش کی گئی، جبکہ یک مچ میں 15 اکتوبر کو ایک پولیس اسٹیشن کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ قلعہ عبداللہ میں پنکئی پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کی بات بھی کی گئی ہے۔
خضدار کے علاقے کرخ کے بارے میں گروہ کا کہنا ہے کہ 18 اکتوبر کو سڑک کی ناکہ بندی کے دوران حاضر سروس سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کیا گیا، اور اسی علاقے میں سی پیک سے منسلک ایک راستہ بند کر کے سکیورٹی فورسز کے لیے سامان لے جانے والی ایک گاڑی قبضے میں لی گئی۔
شہریوں کے قتل کے دعوے
بیانات میں نوشکی میں ایک غیر مقامی حجام اور بارکھان و خاران کے پٹکان اور کوکب علاقوں میں بعض افراد کے قتل کا دعویٰ بھی شامل ہے، جن پر گروہ نے خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے یا مخبری کا الزام لگایا۔ وار مانیٹر کے مطابق ان افراد پر لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، اور نقصان یا متاثرہ افراد کی تعداد کے بارے میں گروہ کے دعوے بھی غیر مصدقہ ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت پسند گروہوں کی جانب سے شاہراہوں کی ناکہ بندی اور مسافروں یا اہلکاروں کو روکنے کے واقعات بار بار رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جس سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں سفر کرنے والے عام شہری بھی خوف کی فضا میں ہیں۔
