وار مانیٹر کے مطابق بلوچ لبریشن وائس (بی ایل وی) نے اپنے ترجمان آزاد بلوچ سے منسوب ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 25 ستمبر کو بلوچستان کے علاقے پنج پائی کے محمد خیلی میں ہونے والی مسلح جھڑپ میں 14 پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور گروہ کے تین جنگجو مارے گئے۔
دس گھنٹے طویل لڑائی کا دعویٰ
بیان کے مطابق لڑائی صبح تقریباً چھ بجے شروع ہوئی اور شام چار بجے تک جاری رہی۔ گروہ کا الزام ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بڑی نفری اور ڈرون کی مدد سے آپریشن کیا۔ بیان میں مارے گئے دو جنگجوؤں کی شناخت نوشکی کے عبدالحمید عرف بلالی بلوچ اور منگوچر کے نصیب عرف اسد بلوچ کے طور پر کی گئی، جبکہ تیسرے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ گروہ کے مطابق تینوں 2023 میں اس میں شامل ہوئے تھے۔
وار مانیٹر نے واضح کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد، جھڑپ کے حالات اور مرنے والوں کی تنظیمی وابستگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں۔
بی ایل اے کی جانب سے پانچ ارکان کی تفصیلات
اسی روز کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے میڈیا چینلز کے ذریعے پانچ ارکان کے کوائف جاری کیے، جن کے بارے میں گروہ کا کہنا ہے کہ وہ اگست اور ستمبر 2026 کے دوران چاغی، زیارت اور پنجگور میں الگ الگ جھڑپوں میں مارے گئے۔
گروہ کے مطابق ہوشاب کے اسحاق شوکت عرف میران بلوچ 18 ستمبر کو چاغی کے علاقے سیاہ چنگ میں، نوشکی کے امان اللہ مینگل 8 اگست کو زیارت میں، جبکہ پنجگور کے ثناء اللہ بلوچ، بلیدہ کے علی بلوچ اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اختیار بلوچ 19 ستمبر کو پنجگور کے علاقے پروم میں مارے گئے۔
وار مانیٹر کے مطابق یہ اعلانات ایک واقعے کے بجائے مختلف تاریخوں کی ہلاکتوں سے متعلق ہیں، اور بی ایل اے کے بیان کردہ حالات اور شناخت کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
