پاکستان میں گاڑی خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منگل کو مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں (بی ای وی) پر سیلز ٹیکس کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے اور نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کے تحت درآمدی ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔
کئی ماہ کی مشاورت کے بعد منظور ہونے والا یہ حتمی مسودہ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی توثیق کے بعد وزیرِ اعظم کو پیش کیا گیا تھا۔ اب یہ آئی ایم ایف کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، پھر وفاقی کابینہ اس کی منظوری دے گی اور نئی شرحوں کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جائے گا۔
کس گاڑی پر کتنا ٹیکس؟
پالیسی مسودے کے مطابق نئی توانائی کی گاڑیوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 1 فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ ان ہائبرڈ پر 9 فیصد ہوگا، جبکہ عام ہائبرڈ اور پیٹرول ڈیزل گاڑیوں سے ڈیوٹی اور ٹیکس میں یکساں سلوک کیا جائے گا۔
پالیسی کے پہلے دو برسوں میں 15 ہزار ڈالر (تقریباً 42 لاکھ روپے) سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 5 فیصد رعایتی ٹیرف لاگو ہوگا۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور مدت تین سے پانچ سال کرنے کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
پیٹرول گاڑیوں پر نیا لیوی
ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے روایتی انجن والی گاڑیوں پر 2 سے 10 فیصد لیوی کی بھی منظوری دی، جس سے پانچ برس میں اندازاً 232 ارب روپے حاصل ہوں گے اور جس کا مقصد کار اسمبلرز کو برآمدات بڑھانے پر آمادہ کرنا ہے۔ 2000 سی سی سے بڑی پیٹرول گاڑیوں اور 75 ہزار ڈالر سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی۔
قیمتوں پر ممکنہ اثر
اخبار کے مطابق نئی پالیسی کے نتیجے میں رواں مالی سال سوزوکی آلٹو کی قیمت 32 لاکھ سے کم ہو کر تقریباً 28 لاکھ 45 ہزار روپے رہ جائے گی، جبکہ اسی کیٹیگری میں ووولنگ بنگو الیکٹرک کار کی قیمت 40 لاکھ سے گھٹ کر 27 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔ سوزوکی کلٹس کی قیمت بھی 43 لاکھ سے کم ہو کر 38 لاکھ روپے تک آنے کا امکان ہے۔ تاہم یہ تمام شرحیں آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہیں۔
