بلوچستان / خیبر پختونخوا: وار مانیٹر کے مطابق ہفتے کو ملک کے مختلف حصوں سے تین الگ الگ سکیورٹی واقعات کی ابتدائی اطلاعات سامنے آئیں، جن کی سرکاری سطح پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔
چاغی میں دالبندین-کوئٹہ-تفتان تجارتی شاہراہ پر مسلح افراد نے مبینہ طور پر تین کمرشل گاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں۔ گاڑیاں کہاں لے جائی گئیں اور اس کارروائی کے پیچھے کون ہے، یہ ابھی واضح نہیں، جبکہ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ضلع خضدار کے علاقے باغبانہ میں فوج کی جانب سے آپریشن شروع کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کارروائی میں ڈرونز اور گن شپ ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ جھڑپوں میں دونوں جانب جانی نقصان کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں، تاہم ہلاکتوں کی تعداد اور لڑائی کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
ادھر ضلع کرم کو افغان صوبے پکتیا سے ملانے والے کھرلاچی-دندِ پٹان سرحدی علاقے میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے۔ لڑائی کتنی دیر جاری رہی، اس کی وجہ کیا بنی اور کتنا جانی نقصان ہوا، اس بارے میں تفصیلات کا انتظار ہے۔
وار مانیٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ ابتدائی اطلاعات ہیں اور اس نے ان واقعات، جانی نقصان کے دعووں یا آپریشن کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ سرکاری مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
اصل رپورٹ وار مانیٹر اور وار مانیٹر کی ایکس پوسٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔
