خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو نو دن گزر چکے ہیں، اور اب یہ معاملہ باقاعدہ عدالت کے کٹہرے میں ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے منگل کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے رہنماؤں، جن میں محسن داوڑ بھی شامل ہیں، کی درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
"صوبائی حکومت کنٹرول نہیں کھو چکی تھی"
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سمیر کھوسہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایسے کوئی حالات نہیں تھے جن سے ظاہر ہو کہ صوبائی حکومت صوبے کا انتظام چلانے کے قابل نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر فعال کر دیے گئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی لاپتہ ہیں اور ان کے ٹھکانے کا کسی کو علم نہیں۔
جسٹس اعجاز انور نے پوچھا کہ کیا درخواست میں دونوں کی عدالت میں پیشی یا بازیابی کی استدعا کی گئی ہے، جس پر کھوسہ نے ہاں میں جواب دیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کام کرتے رہتے ہیں، جبکہ یہاں انہیں کام سے روک دیا گیا ہے۔
اسمبلی کی قرارداد کہاں ہے؟
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دلیل دی کہ دونوں اقدامات قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کیے گئے۔ ان کے بقول سہیل آفریدی بدستور وزیرِ اعلیٰ ہیں اور ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری تھی، جبکہ گورنر راج صرف اسی صورت جائز ہے جب صوبائی حکومت کام کرنے کے قابل نہ رہے۔
ایک اور وکیل معظم بٹ نے کہا کہ اگر دہشت گردی بڑھنے کا جواز دیا جا رہا ہے تو اس کے لیے ایپکس کمیٹی موجود ہے، جس میں صوبائی اور وفاقی حکومت، گورنر اور سکیورٹی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ انہوں نے گورنر کی اُس رپورٹ کے بارے میں بھی سوال اٹھایا جس کی بنیاد پر صدر کے بقول گورنر راج لگایا گیا۔
درخواست گزاروں نے عبوری ریلیف کی استدعا بھی کی، جس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس کا جائزہ لے کر حکم جاری کرے گی۔
گوہر کا الزام: ارکانِ اسمبلی اٹھائے گئے
عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے دونوں اقدامات کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا۔ "ہماری اپنی حکومت تھی اور ہمارا مینڈیٹ چھین لیا گیا،" انہوں نے کہا۔ ان کا الزام تھا کہ پارٹی کے 12 ارکانِ قومی اسمبلی اور 14 ارکانِ صوبائی اسمبلی کو اٹھایا گیا ہے اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر ردعمل اس رپورٹ میں شامل نہیں۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کی توثیق قومی اسمبلی، سینیٹ اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے 14 اور 15 اکتوبر کو قراردادوں کے ذریعے کی۔ بیرسٹر گوہر نے ان قراردادوں کو بھی چیلنج کرنے کے لیے اپنی درخواست میں ترمیم کی استدعا کر رکھی ہے۔
الگ سے، وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے بھی درخواستیں دائر ہیں۔ عدالت نے وزیرِ اعلیٰ کے کیس میں حکام کو دو دن میں، جبکہ باقی دونوں کیسوں میں 10 دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
