ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ایک سال سے زائد عرصے بعد جمعرات کو پشاور پہنچے، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب صوبے میں گورنر راج نافذ ہے اور دہشت گردی کے خلاف کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں کون شریک ہوا؟
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال شریک تھے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، امیر مقام، احد چیمہ، علی پرویز ملک، اویس لغاری اور مشیر رانا ثناء اللہ کے علاوہ اعلیٰ عسکری قیادت بھی موجود تھی۔
کیا فیصلے ہوئے؟
اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے اتفاق کیا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو اضافی آلات، گاڑیاں، اسلحہ اور افرادی قوت فراہم کی جائے گی۔ فورم نے امن کی بحالی اور امن و امان بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی مربوط کارروائی پر بھی زور دیا۔
ایک سال بعد پشاور کا دورہ
اخبار کے مطابق وزیراعظم اس سے پہلے 3 جون 2025 کو پشاور آئے تھے، جب انہوں نے قبائلی عمائدین کے گرینڈ جرگے سے خطاب کیا تھا۔ گورنر راج کے بعد صوبائی اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس 12 اکتوبر کو گورنر کنڈی اور وزیر داخلہ نقوی کی مشترکہ صدارت میں ہوا تھا۔
گورنر راج کا پس منظر
صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ عہدوں سے ہٹ گئی اور انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہو گئے، جبکہ 12 اضلاع میں ہنگامی اقدامات کیے گئے۔ پی ٹی آئی نے وفاقی مؤقف مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔
وفاقی کابینہ کو پیش کی گئی سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا، اور 2026 میں 73 فیصد حملوں کا نشانہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تھے۔
