وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی آزاد (بی ایل اے اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ 18 اکتوبر 2026 کو بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کے علاقے ڈوگنان میں ہونے والی ایک طویل جھڑپ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار مارے گئے۔ یہ اعداد و شمار صرف تنظیم کا مؤقف ہیں اور کسی سرکاری یا آزاد ذریعے نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
کئی گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی کا دعویٰ
تنظیم کے ترجمان آزاد بلوچ سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑائی سیکیورٹی فورسز کی ایک مبینہ کارروائی کے بعد شروع ہوئی اور کئی گھنٹے جاری رہی، جس میں فضائی مدد اور توپ خانے کا استعمال بھی کیا گیا۔ تنظیم نے یہ الزام بھی لگایا کہ گولہ باری سے عام شہری متاثر ہوئے، تاہم اس الزام کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
بیان میں بی ایل اے آزاد نے اپنے دو ارکان کی ہلاکت تسلیم کی ہے، جن کی شناخت دالبندین کے رہائشی جاوید عرف ملنگ اور نرمک سے تعلق رکھنے والے کمال خان عرف صدام بلوچ کے طور پر کی گئی ہے۔
ٹیلی کام ٹاور پر حملے کی ویڈیو
اسی ضلع سے متعلق ایک الگ دعوے میں کالعدم بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں 17 اکتوبر کی رات چاغی کے مرکزی بازار میں فٹبال گراؤنڈ کے قریب ایک موبائل ٹیلی کام ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ یہ ٹاور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے کنٹرول میں تھا۔ وار مانیٹر کے مطابق ویڈیو کی صداقت، ٹاور سے متعلق الزام اور نقصان کی نوعیت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرکاری مؤقف کا انتظار
آئی ایس پی آر یا بلوچستان حکومت کی جانب سے ان دونوں دعوؤں پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ایران اور افغانستان کی سرحد سے متصل چاغی حالیہ ہفتوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
