سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں اور مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹ کے خدشات نے جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کو اور مہنگا کر دیا۔ برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 0.5 فیصد اضافے کے بعد 113.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 0.7 فیصد بڑھ کر 100.13 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
ایک روز پہلے، 22 اکتوبر کو، برینٹ چار مئی کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی سرکاری کمپنی آرامکو نے جمعرات کو ظہران میں اپنا ہیڈکوارٹر ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کا حکم دیا۔
مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو اپنے نوٹ میں لکھا کہ منڈیاں خلیج میں کشیدگی دوبارہ بھڑکنے کے امکان پر سخت فکرمند ہیں، اور ان کے بقول کشیدگی میں مزید اضافہ اب سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ ایکس ایس ڈاٹ کام کی تجزیہ کار لِنہ ٹران کا کہنا تھا کہ اگر حملے جاری رہے اور ترسیل میں تاخیر ہوئی تو بلند قیمتوں کو مزید سہارا ملے گا۔
سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب حوثیوں کے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرون مار گرائے، جبکہ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے پچھلے 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کے اندر چار اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں یہ اضافہ اہم ہے، کیونکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور درآمدی بل براہ راست عالمی منڈی سے جڑے ہیں۔
