مواد پر جائیں

لندن: ٹی ٹی پی کی مدد پر نوجوان کو قید

لندن کے 18 سالہ یوسف شاہ کو القاعدہ کے حامیوں کو کرپٹو کرنسی اور کالعدم ٹی ٹی پی کو سائبر سکیورٹی سے متعلق مدد دینے کے جرم میں چار سال دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

مشرقی لندن کے علاقے الفورڈ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ یوسف شاہ کو دہشت گردی کے پانچ جرائم ثابت ہونے پر چار سال دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کنگسٹن کراؤن کورٹ نے 20 اکتوبر کو یہ سزا سنائی اور ان پر دس سال کے لیے دہشت گردی نوٹیفکیشن آرڈر بھی لاگو کیا، جبکہ میٹروپولیٹن پولیس نے اگلے روز فیصلے کی تصدیق کی۔

پولیس کے مطابق یوسف شاہ نے 16 سال کی عمر میں القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حامیوں کو تکنیکی مشورے دیے۔ تحقیقات جنوری 2024 میں اس وقت شروع ہوئیں جب انہیں ہیتھرو ایئرپورٹ پر انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت روکا گیا اور ان کا موبائل فون جانچا گیا۔ اپریل 2024 میں ان کے گھر کی تلاشی کے دوران کمپیوٹر اور یو ایس بی ڈیوائسز قبضے میں لی گئیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق یوسف شاہ نے ٹیلی گرام گروپس میں القاعدہ کو عطیات کا سراغ مشکل بنانے کے لیے کرپٹو کرنسی کے طریقے بتائے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے اپریل 2024 میں ایک ہزار 376 ڈالر سے زائد کی صرف ایک ادائیگی ہوئی۔ مارچ 2024 کے آخر میں ٹیلی گرام پر ایک شخص نے ان سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کے ایک سینئر عہدیدار کو سائبر سکیورٹی گائیڈ چاہیے، جس پر انہوں نے ایک دستاویز تیار کر کے بھیجی۔ پولیس بیان سے اس مبینہ عہدیدار کی شناخت یا دستاویز کے استعمال کی حد واضح نہیں ہوتی۔

پانچ ہفتے کے مقدمے کے بعد انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کا انتظام کرنے، تربیت یا ہدایات دینے اور دہشت گردی میں کارآمد معلومات جمع کرنے کے تین الزامات سمیت پانچ جرائم میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا کہ یہ کیس دکھاتا ہے کہ نوجوان کس طرح آن لائن انتہا پسند مواد کی طرف کھنچ جاتے ہیں، اور انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-23-wm-london-teen-yusuf-shah-jailed-ttp-al-qaeda?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔