مواد پر جائیں
زیرِ پیش رفت

ٹی ٹی پی کا وزیرستان، تونسہ میں حملوں کا دعویٰ

کالعدم ٹی ٹی پی نے جمعے کو جاری کی گئی ویڈیوز میں جنوبی وزیرستان کی دو فوجی چوکیوں اور جنوبی پنجاب کے تونسہ شریف میں حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جمعے کو دو الگ ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں جنوبی وزیرستان میں فوج کے دو ٹھکانوں اور جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ شریف میں سکیورٹی اہلکاروں اور مقامی امن کمیٹی کے مورچوں پر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں، ویڈیوز کی صداقت اور کسی جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق پہلی ویڈیو میں ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی وزیرستان کے علاقے طوئی خولہ میں شیرکانی کے مقام پر ایک فوجی چوکی اور تیارزہ کے علاقے خیسورہ میں ایک فوجی قلعے کو نشانہ بنایا۔ گروہ نے ہلاکتوں کے کوئی قابلِ تصدیق اعداد و شمار نہیں دیے، اور یہ بھی واضح نہیں کہ مبینہ حملے کب ہوئے۔

دوسری ویڈیو ’آپریشن الخیبر‘ کے نام سے جاری سلسلے کی 22ویں قسط بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میں تونسہ شریف کے علاقے جھنگی میں ایک سکیورٹی چوکی پر خودکش حملے اور جاڈے والی میں سی ٹی ڈی اور مقامی امن کمیٹی کے ٹھکانوں پر کواڈ کاپٹر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں گروہ کے میڈیا ونگ سے وابستہ رہنے والے ایک سابق عہدیدار کو بھی دکھایا گیا ہے۔

یہ ویڈیوز ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب اسی روز تونسہ شریف کی بستی جوتر میں ایک کواڈ کاپٹر حملے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی، جس کی تفصیل یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ فوج یا مقامی حکام کی جانب سے ان تازہ دعوؤں پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-23-wm-ttp-video-claims-south-waziristan-taunsa-attacks?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں