وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے بدھ 22 اکتوبر کی شام خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈی ایس پی عمران الدین کے قتل میں مبینہ طور پر شریک اپنے ارکان کے لیے دو لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
گروہ سے منسوب بیان کے مطابق یہ انعام اس کے سربراہ مفتی ابو منصور عاصم کی منظوری سے دیا جا رہا ہے، اور یہ رقم ان ارکان کے لیے ہے جنھیں ٹی ٹی پی بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے میں ہونے والے حملے میں شریک قرار دیتی ہے۔ حکومت یا پولیس کی جانب سے اس اعلان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، اور انعام کے اعلان یا حملے کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ اعلان اسی گروہ کے اس سابقہ دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں اس نے کرک میں پولیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ وار مانیٹر کی اطلاعات کے مطابق 22 اکتوبر کو مشتبہ عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی عمران الدین اور ایس ایچ او افضل اعوان جاں بحق ہوئے، جبکہ ٹی ٹی پی نے کانسٹیبل کاظم کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا۔ اس حملے کی تفصیل مارگلہ نیوز کی اس خبر میں پڑھی جا سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ ہفتوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
