فرانس نے ہفتے کو ملک گیر مظاہروں کے پیش نظر تقریباً 70 ہزار پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل انہی مظاہروں کے دوران فرانس کے شہروں میں برسوں کا بدترین تشدد، لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ دیکھنے میں آیا تھا۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پیرس میں پریس کانفرنس میں تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی کالیں گردش کر رہی ہیں۔ یہ تحریک ہائی اسکول کے طلبہ نے تعلیمی حالات کے خلاف شروع کی تھی، جو اب مہنگائی پر وسیع عوامی غصے کے باعث پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ وزیر انصاف جیرالڈ درمانیں کے مطابق گزشتہ ہفتے کے واقعات پر عدالتیں اب تک 217 افراد کو جیل بھیج چکی ہیں، جن میں سے نصف پہلی بار جرم کے مرتکب تھے۔
صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو سیکنڈری اسکول کے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کی، تاہم طلبہ نے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے ٹھوس تجاویز آنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ میکرون نے تشدد کے واقعات پر ’انتہائی سختی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے ’انتہائی بائیں بازو‘ کے گروہوں پر جمہوریہ کو گرانے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔
یہ صورتحال صدارتی انتخابات سے چھ ماہ پہلے پیدا ہوئی ہے، اور ایک نئے سروے کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لی پین سبقت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لی پین کی جماعت نیشنل ریلی کا کنونشن اسی ہفتے اورلیاں میں ہو رہا ہے، جہاں 20 سے 30 ہزار مخالف مظاہرین کی آمد متوقع ہے۔ پیرس، لیون اور دیگر شہروں میں مظاہروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں اور لوور سمیت بڑے عجائب گھر ہفتے کو بند رہیں گے، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پابندیوں کو پرامن احتجاج کے حق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
