خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں ہفتے کو 51 افراد کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی ہے، جن میں 17 سرکاری اہلکار بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقامی صحافیوں کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 20 سے زیادہ مسلح افراد نے، جن کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے، کلاچی کے علاقے میں ان افراد کو اغوا کیا۔ اغوا کے حالات، مغویوں کی شناخت اور انہیں کہاں لے جایا گیا، اس بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔
پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، اور اغوا ہونے والوں کی تعداد سمیت کسی بھی تفصیل کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحقہ ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے علاقے حالیہ مہینوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے متاثر رہے ہیں، جہاں سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کو بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مغویوں کے اہل خانہ کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کے پیارے کہاں ہیں اور ان کی واپسی کب ممکن ہوگی۔
