شاداب خان نے اتوار کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری بنا کر ہاری ہوئی بازی پلٹ دی اور پاکستان نے سہ ملکی سیریز کے میچ میں انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے کر 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
انگلینڈ کی پوری ٹیم 241 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی، مگر ہدف کا تعاقب شروع ہوتے ہی پاکستانی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ فخر زمان 10، صائم ایوب چھ اور بابر اعظم 10 رنز بنا کر ابتدائی سات اوورز کے اندر ہی پویلین لوٹ گئے۔ سعد بیگ نے 22 گیندوں پر 32 رنز کی جارحانہ اننگز ضرور کھیلی، لیکن جب شاداب کریز پر آئے تو اسکور 103 رنز پر پانچ وکٹ تھا۔
حالات مزید بگڑتے گئے۔ سلمان علی آغا 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور 34ویں اوور میں پاکستان کی نو وکٹیں 154 رنز پر گر چکی تھیں، جبکہ جیت کے لیے ابھی 88 رنز درکار تھے۔ ایسے میں آخری بیٹر حارث رؤف نے ایک اینڈ سنبھالا اور شاداب نے دوسرے اینڈ سے جوابی حملہ شروع کر دیا۔
میچ کا سب سے ڈرامائی لمحہ اس وقت آیا جب پاکستان کو 27 رنز درکار تھے اور شاداب کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا۔ ریویو میں الٹرا ایج نے دکھایا کہ گیند پہلے بلے سے لگی تھی، چنانچہ فیصلہ واپس ہو گیا۔ اس کے فوراً بعد شاداب نے 91 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی، اور پھر حارث رؤف نے ہنری کروکومب کو سیدھا چوکا لگا کر 47.1 اوورز میں پاکستان کو 243 رنز تک پہنچا دیا۔
شاداب 96 گیندوں پر 13 چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 113 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی اور حارث رؤف کی 89 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت کسی کامیاب ون ڈے تعاقب میں دسویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ بن گئی، جس نے 64 رنز کا پچھلا ریکارڈ توڑ دیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شاداب اور حارث کی آخری وکٹ کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور شاداب کی سنچری "شاندار" تھی۔ اس سیریز میں پاکستان اس سے پہلے سری لنکا کو بھی شکست دے چکا ہے، اور اب ٹیم کی نظریں 31 اکتوبر کے فائنل پر ہیں۔
