وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کا دفاع "پوری قوت" سے کرے گا، کیونکہ مملکت کا دفاع اسلام آباد کے لیے اپنی سرزمین کے تحفظ جتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کی شب ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی، جہاں چاروں ممالک نے علاقائی تعاون مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ "ہم پر لازم ہے کہ ہم سعودی عرب کا دفاع کریں،" وزیرِ دفاع نے کہا۔ "جس طرح پاکستان کا دفاع مقدم ہے، اسی طرح سعودی عرب کا دفاع بھی ہمارے لیے مقدم ہے۔"
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ رسمی معاہدوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تین ممالک نے تحریری عہد کیا ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں وہ مل کر جواب دیں گے، اور اب ان شاء اللہ بیرونی جارحیت کے خلاف ایک دوسرے کی سرزمین کا دفاع کیا جائے گا۔
تہران مذاکرات پر محتاط امید
وزیرِ دفاع کے مطابق ان کا اندازہ ہے کہ تہران کا اقدام زیادہ تر سعودی عرب سے متعلق صورتحال کے گرد تھا، تاہم ممکنہ امریکی کارروائی پر بھی یقیناً بات ہوئی۔ انہوں نے ریاض ایئرپورٹ کو بار بار نشانہ بنانے اور حرمین شریفین پر حملوں کی کوششوں کو "انتہائی افسوسناک" قرار دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی رائے میں فریقین کسی ایسے نتیجے تک پہنچ گئے ہیں جو اس جنگ کو روکنے کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، تاہم وہ نتائج کے بارے میں "قدرے محتاط" ہیں اور ایران سمیت شریک ممالک کے بیانات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششیں "نتائج دے رہی ہیں"۔
