پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں پولیس اہلکاروں نے اتوار کو ایک ڈرون مار گرایا جو مبینہ طور پر ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کے لیے بڑھ رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈرون قریبی کھیتوں میں جا گرا اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ ہفتوں کے دوران پولیس تھانوں اور چوکیوں پر کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، اور پشاور کے نواحی علاقے بھی ان سے محفوظ نہیں رہے۔ اس واقعے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
صوبے کے دیگر حصوں سے بھی اتوار کو سکیورٹی واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین کے علاقے سرنرائی میں ایک سکیورٹی چوکی پر سنائپر حملے میں فوج کی تھرڈ اے کے رجمنٹ کے سپاہی زاہد حسین جان سے گئے۔ وہ اسکردو کے علاقے روندو کی سٹک ویلی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
لکی مروت میں تھانہ برگئی کی حدود سے مسلح افراد نے پشک خان کے بیٹے دولت خان کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا، جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ادھر ٹانک ضلع میں کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں عمر خان کلی کے علاقے میں فوجی اہلکاروں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
ان تمام واقعات کے بارے میں آئی ایس پی آر یا صوبائی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، اور دعووں کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ اسی ہفتے بنوں میں پولیس گاڑی پر بم حملے کی تفصیل یہاں پڑھیں۔
