ایپل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئی فون ڈو کے ان ہینڈسیٹس کو تبدیل کر دے گا جن کی اسکرینوں میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ مسئلہ کمپنی کے پہلے فولڈ ایبل فون کی فروخت شروع ہونے کے محض چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کی ابتدائی قیمت برطانیہ میں 1,999 پاؤنڈ (2,668 ڈالر) ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں فون کی اسکرین پر لکیریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ بعض صارفین نے اسکرین کے درمیانی تہہ والے حصے پر دراڑیں دکھائیں، جبکہ کچھ نے فون کھولتے وقت چرچراہٹ کی آواز کی شکایت کی۔ ایک صارف جسٹن لوکوس نے اسکرین کے دائیں حصے پر لکیروں والے فون کی تصویر پوسٹ کی اور بعد میں نئے ہینڈسیٹ کی تصویر لگا کر نیویارک کے ایک ایپل اسٹور کا شکریہ ادا کیا۔
مسئلے کی وسعت ابھی واضح نہیں۔ ایپل نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے فون متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق خراب فونز کی کچھ تصاویر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی بھی ہو سکتی ہیں۔
آئی فون ڈو کی 7.6 انچ کی اندرونی اسکرین ایک مرکزی قبضے (ہنج) سے جڑی ہے، جو انجینئرنگ کا ایک پیچیدہ حصہ ہے اور حریف کمپنیوں کے فولڈ ایبل فونز میں بھی اسی طرح کی خرابیوں کا سبب بنتا رہا ہے۔ سام سنگ کے پہلے فولڈ ایبل فون گلیکسی فولڈ کو بھی 2019 میں ریویو کرنے والوں کی جانب سے ٹوٹی اسکرینوں کی شکایات کے بعد دھچکا لگا تھا۔
یہ ایپل کا اب تک کا سب سے مہنگا آئی فون ہے، جس کے سب سے بہتر ماڈل کی قیمت 3,199 پاؤنڈ تک ہے۔ تقریباً دو دہائیوں میں آئی فون کے پہلے بڑے نئے ڈیزائن کو کمپنی کے نئے سربراہ جان ٹرنس نے متعارف کرایا تھا، جنہوں نے ستمبر میں ٹم کک کی جگہ سنبھالی۔ گزشتہ ماہ تقریب میں ٹرنس نے کہا تھا کہ "دوسروں نے ایسے فولڈ ایبل بنائے ہیں جو دو فونز کو بے ڈھنگے طریقے سے جوڑنے جیسے لگتے ہیں"، اور دعویٰ کیا تھا کہ ڈو فولڈ ایبل فون کے تجربے کو نئے سرے سے متعین کرے گا۔ گزشتہ ہفتے آئی فون ڈو کی فروخت کا آغاز دنیا بھر کے ایپل اسٹورز پر رش کے ساتھ ہوا تھا۔
