خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی زدہ 12 اضلاع میں حکام نے ایک نیا امن عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت مقامی قبائلی عمائدین اور جرگے مسلح گروہوں سے رابطہ کر کے انہیں علاقہ خالی کرنے پر قائل کریں گے۔ یہ ذمہ داری 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹوز اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کو سونپی گئی ہے، جو اپنے اپنے اضلاع میں قبائلی روایات کے مطابق بات چیت کا آغاز کرے گی۔
کونسل کے چیئرمین اور سابق گورنر شوکت اللہ خان اور گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ شوکت اللہ خان کے مطابق کونسل کے ارکان اپنے علاقوں میں مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔ "ارکان جرگوں، قبائلی عمائدین اور مقامی لوگوں کی حمایت حاصل کریں گے تاکہ مسلح گروہوں کو رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کیا جا سکے،" انہوں نے کہا۔
محمود جان بابر نے بتایا کہ ہر ضلع میں کونسل کا متعلقہ رکن مقامی جرگوں، بزرگوں اور عوام سے رابطے کا ذمہ دار ہوگا اور یہ عمل مقامی روابط اور مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔
جن اضلاع میں یہ عمل شروع ہو رہا ہے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، اپر جنوبی وزیرستان اور لوئر جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو ان اضلاع میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، جس کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر کو توثیق کی، جبکہ 17 اکتوبر کو کونسل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
کونسل کا مقصد امن و امان، ترقیاتی ضروریات اور عوامی شکایات کے حل میں مقامی نمائندوں کو شامل کرنا ہے۔ شوکت اللہ خان کا کہنا ہے کہ جیسا کہ کونسل کے نام سے ظاہر ہے، ابتدائی ترجیح ان علاقوں کے ترقیاتی منصوبے ہوں گے، تاہم ان کے بقول امن کا قیام بھی ناگزیر ہے اور اس کے لیے قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ حکمت عملی درکار ہوگی۔
