سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو بین الاقوامی بینکوں کے ایک بڑے گروپ سے تقریباً 10 ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ آئندہ چند ہفتوں میں طے پا سکتا ہے اور امریکی، برطانوی، چینی اور جاپانی بینکوں سے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
معاملے سے واقف افراد کے مطابق آرامکو ریوالونگ کریڈٹ سہولت چاہتی ہے، یعنی کمپنی پوری رقم ایک ساتھ لینے کے بجائے ضرورت کے مطابق ایک مقررہ حد تک رقم نکال سکے گی اور واپسی کے بعد دوبارہ استعمال کر سکے گی۔ مجوزہ شرح سود امریکی ڈالر کے بینچ مارک ریٹ سوفر سے 0.60 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس قرض میں جے پی مورگن چیز، سٹی گروپ، ایچ ایس بی سی، بینک آف چائنا، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا اور جاپان کا مٹسوبیشی یو ایف جے فنانشل گروپ شامل ہو سکتے ہیں۔ آرامکو اور بعض بینکوں نے اس پر تبصرے سے انکار کیا ہے، اس لیے رقم اور شرائط کو ابھی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ جاری مذاکرات سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، مگر ساتھ ہی سعودی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے دعوؤں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں نے تیل کی برآمدات اور نقل و حمل کے اخراجات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سہولت آرامکو کو ضرورت پڑنے پر فوری سرمایہ فراہم کر سکتی ہے۔
