یوکرین کے وسطی شہر دنیپرو کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر جمعرات کو ایک روسی ڈرون مسافروں سے بھرے پلیٹ فارم پر آ گرا، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ دنیپروپیترووسک کے علاقائی سربراہ اولیکساندر ہانژا کے مطابق حملے میں کم از کم 14 دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 11 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی کا کہنا ہے کہ جس وقت جیٹ انجن والا ڈرون ٹکرایا، جنوبی شہر زاپوریژیا جانے والی ایک مسافر ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔ ریلوے کے سربراہ اولیکساندر پرتسووسکی نے بتایا کہ حملے سے پہلے شہر میں خطرے کی سطح بڑھا دی گئی تھی، ’لیکن بدقسمتی سے پلیٹ فارم پر اب بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔‘
دنیپرو کے میئر بورس فلاتوف نے واقعے کو سانحہ قرار دیا۔ امدادی اداروں کی جاری کردہ تصاویر میں پلیٹ فارم میں ایک بڑا شگاف اور قریب کھڑی ٹرین کی ٹوٹی کھڑکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے اس پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا جہاں ایک عام مسافر ٹرین اور ایک مقامی ٹرین کھڑی تھیں۔ انہوں نے امریکہ، یورپ اور جی سیون سے روس پر مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا اور اس ماہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر پھر تنقید کی جس کے تحت روس پر بعض پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔
روسی فوج نے حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ماسکو یوکرین کے ریلوے نظام کو بارہا نشانہ بنا چکا ہے لیکن شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا ہدف فوجی نقل و حمل میں استعمال ہونے والا ڈھانچہ ہے۔
اسی روز شمالی شہر چرنیہیو کے مرکز پر روسی میزائل حملے میں 15 سال کی دو لڑکیاں ہلاک اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یوکرین کے ریلوے نظام پر حملوں میں اس سال تیزی سے اضافہ ہوا ہے: ریلوے تنصیبات پر حملے 2025 کے 1,206 سے بڑھ کر اس سال اب تک 1,700 ہو چکے ہیں۔
