اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو نیویارک میں کیوبا پر امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالی پابندی کے خاتمے کی قرارداد ایک بار پھر بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔ قرارداد کے حق میں 130 ووٹ آئے، امریکہ اور اسرائیل سمیت 17 ممالک نے مخالفت کی جبکہ 25 ممالک نے ووٹ نہیں دیا۔
غیر حاضر رہنے والوں میں جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک بھی شامل ہیں جو ماضی میں قرارداد کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ جنرل اسمبلی تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ہر سال اس پابندی کی مذمت کر رہی ہے۔
کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو رودریگیز نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ امریکہ کیوبا کے عوام کا گلا گھونٹنے کی کوشش میں ایک بار پھر تنہا رہ گیا ہے۔ کیوبا کے حکام نے الزام لگایا کہ امریکہ نے ممالک کو محصولات، ویزا پابندیوں اور دیگر سزاؤں کی دھمکیاں دیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ جنوبی کوریا اور جرمنی جیسی بڑی معیشتوں نے اپنا مؤقف بدلا ہے اور غیر حاضر ممالک کی تعداد تین گنا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کیوبا کے مشن کے فرسٹ سیکرٹری رچرڈ تور دی لا کونسیپسیون کو ایک امریکی سفارت کار پر حملے کے الزام میں ملک بدر کیا جائے گا۔ منگل کو جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران دونوں ملکوں کے سفارت کاروں میں تلخ کلامی اور بظاہر دھکم پیل بھی ہوئی تھی۔
چھ دہائیوں سے زائد پرانی یہ پابندی کیوبا کی معیشت کو نچوڑنے کی کوشش کا حصہ ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے توانائی کی ناکہ بندی سمیت مزید پابندیاں بھی لگائی ہیں جنہیں جزیرے پر بڑھتی مشکلات سے جوڑا جاتا ہے۔
