امریکہ میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند روز پہلے ہیکرز نے فیڈرل الیکشن کمیشن (ایف ای سی) کے نظام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس کے بعد کمیشن کو اپنی ویب سروسز عارضی طور پر بند کرنا پڑیں اور انتخابی مہمات کے اخراجات کی رپورٹنگ متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ایف ای سی کی جانب سے ایک کمپلائنس فرم کو بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا کہ "ایک شرپسند عنصر ایف ای سی کے نظام میں گھسنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے ہمیں اپنی ویب سروسز عارضی طور پر معطل کرنا پڑی ہیں۔" کمیشن کی ویب سائٹ پیر کی رات امریکی مشرقی وقت کے مطابق سوا دس بجے کے بعد سے بند تھی، اور منگل کی شام جاری پیغام میں بتایا گیا کہ مسئلے کی نشاندہی ہو گئی ہے اور اسے ٹھیک کیا جا رہا ہے۔ ایف بی آئی اور سائبر سکیورٹی ایجنسی نے سوالات کمیشن کو بھیج دیے۔
اس تعطل کی وجہ سے سیاسی گروپ اور امیدوار 24 اور 48 گھنٹے کی وہ رپورٹس جمع نہیں کرا پا رہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس انتخابی مقابلے پر کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ ایف ای سی کی کمشنر ڈارا لنڈن باؤم نے واضح کیا کہ اس واقعے کا ووٹر فہرستوں یا ووٹر رجسٹریشن سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ وہ ریاستوں کے پاس ہوتی ہیں اور کمیشن صرف وفاقی انتخابی اخراجات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یہ وسط مدتی انتخابات امریکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات بن چکے ہیں اور اشتہارات پر اب تک تقریباً 11.21 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ ایک انتخابی نگران گروپ کے مطابق سپر پیکس اور نامعلوم ذرائع سے فنڈ لینے والے گروپ گزشتہ ہفتے روزانہ اوسطاً پانچ کروڑ ڈالر خرچ کر رہے تھے، اس لیے آخری دنوں میں شفافیت کا یہ نظام بند ہونا بڑی تشویش کا باعث بنا ہے۔
