وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ جو بینک کسانوں، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور وزیراعظم کی اپنا گھر اسکیم کے صارفین کو قرضے دینے میں تیزی نہیں دکھا رہے، انہیں کوئی رعایت نہ دی جائے۔ یہ ہدایت انہوں نے پیر کو ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔
وزیراعظم نے اچھی کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی تعریف کی اور کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی ہے، اس لیے انہیں ترجیحی شعبوں کے لیے اسی طرح تعاون کرنا چاہیے جیسے حکومت اور اس کے ادارے بینکوں سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز معیشت، برآمدات اور روزگار بڑھانے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں، زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اپنا گھر اسکیم تعمیرات سے جڑی کئی صنعتوں کو فروغ دے گی۔
انہوں نے وزیرِ خزانہ کو ان تینوں شعبوں کی فنانسنگ کے مسائل حل کر کے جامع ایکشن پلان بنانے، جبکہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل مل کر حل کرنے اور آسان قرضوں کے لیے رسک کوریج کی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرے اور لاگت کی تقسیم، اور ڈیجیٹل سہولتوں کے فروغ پر کام کر رہا ہے۔
ایک الگ اجلاس میں وزیراعظم نے زیرِ تعمیر جناح میڈیکل کمپلیکس پر پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا اور ہدایت کی کہ اہداف مقررہ وقت میں پورے کیے جائیں اور تمام بھرتیاں میرٹ پر شفاف طریقے سے ہوں۔
