اسپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اوسکر پوئنتے نے منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اُس تیز رفتار ٹرین حادثے کے چھ دن بعد سامنے آیا جس میں دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں قصبے اُردا کے قریب ایک ٹرین کھڑی ٹرین سے جا ٹکرائی تھی اور کم از کم 69 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔
پوئنتے نے کانگریس میں حادثے پر طویل سماعت کے اختتام پر اعلان کیا کہ ’’اسپین جیسے ملک میں وزیرِ ٹرانسپورٹ ایک سال سے کم عرصے میں اتنے سنگین دو حادثوں کے بعد عہدے پر نہیں رہ سکتا۔‘‘ ان کا اشارہ جنوری میں اسی ریلوے لائن پر ہونے والے حادثے کی طرف تھا جس میں 46 افراد مارے گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ قبل از وقت عام انتخابات کی امیدواروں کی فہرست سے بھی اپنا نام واپس لے رہے ہیں۔
28 اکتوبر کا یہ حادثہ یورپ کی جدید تاریخ کے بدترین ریل حادثوں میں سے ایک اور 2013 کے بعد اسپین کا سب سے مہلک ٹرین حادثہ ہے۔ سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے، جبکہ نجی کمپنی اِیریو کی کھڑی ٹرین میں 147 مسافر تھے۔ ذرائع کے مطابق خودکار سگنلنگ نظام میں کمپیوٹر خرابی کے باعث اس حصے پر تمام ٹرینیں روکی گئی تھیں۔
اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی اور ووکس، اور حکومت کے بعض اتحادی بھی، وزیر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے پوئنتے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’وقار کے ساتھ، اپنی مرضی سے اور متاثرین کے احترام میں‘‘ عہدہ چھوڑا۔ یہ استعفیٰ ایسے وقت آیا ہے جب اسپین میں 29 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات ہونے والے ہیں۔
