امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ کی دو اہم کامیابیاں ملی ہیں۔ جارجیا میں سینیٹر جان اوسوف دوبارہ منتخب ہو گئے ہیں، جبکہ نارتھ کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ری پبلکنز کے پاس موجود نشست جیت لی ہے۔ ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کوپر 2008 کے بعد نارتھ کیرولائنا سے سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔ وہ ری پبلکن سینیٹر تھوم ٹلس کی جگہ لیں گے، جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کھل کر تنقید کے بعد تیسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کوپر نے ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل واٹلی کو شکست دی، اور یہ کامیابی ایک ایسی ریاست میں آئی ہے جو 2016 سے تین بار معمولی فرق سے ٹرمپ کو ووٹ دے چکی ہے۔
اپنی فتح کی تقریر میں کوپر نے کہا کہ ’’واشنگٹن میں افراتفری اور کرپشن ہمارے لوگوں کو نقصان پہنچا رہی تھی‘‘ اور وعدہ کیا کہ وہ صحت، رہائش اور اشیائے خور و نوش کو سستا کرنے، ’’اس جنگ کو ختم کرنے‘‘ اور پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ان کا اشارہ ایران کے خلاف امریکی جنگ کی طرف تھا۔
جارجیا میں اوسوف نے ٹرمپ کے قریبی اتحادی ری پبلکن کانگریس مین مائیک کولنز کو ہرایا۔ ذرائع کے مطابق 56 فیصد ووٹوں کی گنتی تک اوسوف کو 63 فیصد اور کولنز کو 29 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اوسوف نے مہنگائی، صحت اور حکومتی احتساب کو اپنی مہم کا محور بنایا تھا، جبکہ کولنز نے صدر کے ایجنڈے، امیگریشن اور حکومت کا حجم کم کرنے پر زور دیا۔ ووٹوں کی گنتی دیگر ریاستوں میں جاری ہے۔
