افغانستان میں پیر 21 ستمبر سے پولیو ویکسینیشن کی نئی مہم شروع ہو گئی ہے۔ پولیو فری افغانستان پروگرام کے مطابق ویکسینیشن کا عمل ملک کے تمام حصوں میں شروع کرنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ جنوبی خطے میں مہم ایک روز بعد شروع کی جانی ہے۔ پروگرام نے والدین، خاندانوں اور مقامی برادریوں سے کہا ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اہل بچوں تک پولیو ویکسین پہنچ سکے۔
یہ مہم ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب افغانستان دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی اب بھی مکمل طور پر نہیں رکی۔ دوسرا ملک پاکستان ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں، لیکن سرحدی آمد و رفت، بعض علاقوں میں ویکسینیشن کوریج کی کمی، دشوار گزار جغرافیہ اور صحت کی خدمات تک غیر مساوی رسائی اس کام کو مشکل بناتی رہی ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی ایسا علاج نہیں جو فالج ہو جانے کے بعد اس کے اثرات کو ختم کر دے، اسی لیے عالمی اور افغان صحت ادارے ویکسینیشن کو بنیادی حفاظتی ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ بچوں کو مختلف ویکسینیشن راؤنڈز میں بار بار قطرے پلانے کا مقصد ان کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنا اور وائرس کی منتقلی کے امکانات کم کرنا ہوتا ہے۔
پولیو فری افغانستان کی ویب سائٹ نے 21 ستمبر کو نئی مہم کے آغاز کی تاریخ کے طور پر درج کیا تھا۔ پروگرام کی جانب سے جاری عوامی پیغام میں لوگوں سے مہم میں حصہ لینے اور پولیو سے پاک افغانستان کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی۔ جنوبی افغانستان کے لیے شیڈول ایک دن بعد رکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں عملی انتظامات ایک ہی وقت کے بجائے مقامی شیڈول کے مطابق ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں 2026 کے دوران یہ پہلی ویکسینیشن سرگرمی نہیں ہے۔ وزارت صحت نے اپریل میں سال کی پہلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ہدف تقریباً ایک کروڑ 26 لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچوں تک پہنچنا ہے۔ اس مہم کے دوران بعض سرد علاقوں میں موسمی حالات کی وجہ سے شیڈول مختلف رکھا گیا تھا۔ فروری میں بھی ایک ذیلی قومی مہم کے تحت متعدد صوبوں اور اضلاع میں لاکھوں بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے فروری 2026 میں بتایا تھا کہ جاپان نے افغانستان میں پولیو کے خاتمے اور معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کے لیے 6.3 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ یونیسف کے مطابق اس بارہ ماہ کے پروگرام کا مقصد تمام 34 صوبوں میں حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو سہارا دینا اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر بچوں تک پولیو ویکسین پہنچانے کی کوششوں میں مدد کرنا ہے۔ یہ مالی معاونت موجودہ ستمبر مہم کے کسی ایک راؤنڈ تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر حفاظتی ٹیکہ جات اور پولیو پروگرام کا حصہ ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان لوگوں کی مسلسل آمد و رفت پولیو پروگرام کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وائرس سرحدی دستاویزات یا انتظامی حدود کو نہیں دیکھتا، اس لیے اگر کسی ایک علاقے میں بچوں کی بڑی تعداد ویکسین سے محروم رہ جائے تو وائرس دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک میں سرحدی علاقوں، واپس آنے والے خاندانوں اور زیادہ نقل و حرکت والی آبادیوں تک ویکسین پہنچانا انسداد پولیو حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
افغانستان میں ویکسینیشن مہمات کو صرف دوا کی دستیابی کا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ صحت کارکنوں کو دور دراز علاقوں تک پہنچنے، خاندانوں کو مہم کے وقت اور مقام سے آگاہ کرنے، بچوں کی شناخت کرنے اور ان علاقوں میں دوبارہ جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جہاں پہلے راؤنڈ میں بچے رہ گئے ہوں۔ بعض مقامات پر موسم، سڑکوں کی حالت، آبادی کی نقل مکانی یا مقامی رسائی کے مسائل بھی مہم کے عملی طریقہ کار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عوامی اعتماد بھی پولیو کے خاتمے میں بنیادی کردار رکھتا ہے۔ صحت پروگرام مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو ہر مقررہ راؤنڈ میں ویکسین دلوائیں۔ ایک بچے کو پہلے قطرے مل چکے ہوں تب بھی اگلے راؤنڈ میں ویکسین دینے کی ہدایت اس لیے کی جاتی ہے کہ بار بار خوراک قوت مدافعت کو مزید مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں وائرس کی منتقلی کا خطرہ برقرار ہو۔
ستمبر کی نئی مہم کی اصل اہمیت یہی ہے کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے آخری مگر مشکل مرحلے میں مسلسل ویکسینیشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ کسی ایک مہم سے وائرس کے خاتمے کا فوری اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے بچوں تک ویکسین پہنچتی ہے، کتنے بچے رہ جاتے ہیں، وائرس کی نگرانی کیا نتائج دکھاتی ہے اور آئندہ راؤنڈز میں رسائی کے خلا کو کس حد تک کم کیا جاتا ہے۔
پولیو فری افغانستان نے خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ صحت کے نقطۂ نظر سے بنیادی پیغام سادہ ہے: پولیو سے بچاؤ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ہر اہل بچے تک ویکسین کا پہنچنا ضروری ہے۔ افغانستان میں جاری نئی مہم اسی طویل قومی اور بین الاقوامی کوشش کا تازہ مرحلہ ہے۔
