پاکستان میں ملکی فیصلہ سازی کے عمل اور سکیورٹی اداروں کے سیاسی و انتظامی کردار پر ایک بار پھر بحث تیز ہو رہی ہے۔ عوامی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کور کمانڈر کانفرنس میں کیا ہوتا ہے، اس کے ایجنڈے اور فیصلوں سے ملک کا وزیرِ دفاع کس حد تک باخبر ہوتا ہے، اور اجلاس میں موجود دیگر سینئر فوجی افسران کس حد تک آزادانہ رائے دیتے ہیں۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ چند درجن اعلیٰ فوجی افسران پر مشتمل ایک بند کمرہ فورم ملکی سلامتی، داخلی استحکام اور قومی پالیسی سے متعلق ایسے موضوعات پر گفتگو کرتا ہے جن کے اثرات کروڑوں شہریوں پر پڑ سکتے ہیں۔ ناقدین کا سوال ہے کہ ایسے معاملات میں منتخب حکومت، پارلیمان اور وزارتِ دفاع کی عملی نگرانی کتنی مؤثر ہے۔
کچھ ناقدین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے نے ماضی میں آئینی اداروں، عدلیہ اور سیاسی عمل پر دباؤ بڑھایا۔ ان کے مطابق ملک میں معاشی مشکلات، کاروباری بے یقینی اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے مسائل کو صرف ایک ادارے یا ایک گروہ کے سر نہیں ڈالا جا سکتا، لیکن اگر قومی فیصلہ سازی محدود حلقوں میں مرتکز ہو تو جواب دہی کمزور پڑتی ہے اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا کور کمانڈر کانفرنس کے ایجنڈے کی منظوری منتخب حکومت یا وزارتِ دفاع سے لی جاتی ہے؟ کیا اجلاس کے مکمل منٹس محفوظ کیے جاتے ہیں؟ کیا وہ کبھی سرکاری ریکارڈ یا گزٹ کا حصہ بنتے ہیں؟ اور کیا شرکا میں اختلافِ رائے یا متبادل مؤقف باقاعدہ طور پر درج ہوتا ہے؟
دستیاب سرکاری بیانات عموماً یہ بتاتے ہیں کہ کور کمانڈر کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف کی زیرِ صدارت ہوتی ہے اور اس میں داخلی و خارجی سلامتی، آپریشنل تیاری، علاقائی صورتحال اور دیگر عسکری معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم عوام کے لیے جاری ہونے والے بیانات اجلاس کے مکمل داخلی طریقۂ کار، رائے شماری، تفصیلی منٹس یا وزارتِ دفاع کی پیشگی منظوری کے طریقے کی وضاحت نہیں کرتے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ شرکا کی تعداد کو ایک مستقل اور طے شدہ عدد کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ مختلف ادوار میں کور کمانڈرز کے ساتھ پرنسپل اسٹاف افسران اور دیگر سینئر حکام بھی اجلاسوں میں شریک ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ ہر اجلاس میں لازماً 24، 25 یا 32 افراد ہی بیٹھتے ہیں، دستیاب عوامی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔
آئینی طور پر پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 243 واضح کرتا ہے کہ مسلح افواج کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہے، جبکہ سپریم کمانڈ صدر کے پاس ہے اور سروس چیفس کی تقرری وزیرِ اعظم کے مشورے پر کی جاتی ہے۔ اسی لیے اصل سوال محض یہ نہیں کہ کور کمانڈر کانفرنس میں کیا کہا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آئینی اختیار اور عملی فیصلہ سازی کے درمیان فاصلہ کتنا ہے۔
عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بحث کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ریاستی ادارے قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کریں، منتخب حکومت اور پارلیمان قومی پالیسی پر مؤثر اختیار رکھیں، اور سلامتی سے متعلق فیصلوں میں بھی جواب دہی اور شفافیت کے ایسے اصول موجود ہوں جن پر شہری اعتماد کر سکیں۔
سویلین بالادستی کا مطلب فوج کی پیشہ ورانہ اہمیت کو کم کرنا نہیں، بلکہ آئینی ترتیب کے مطابق ہر ادارے کے کردار کی حد واضح رکھنا ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں دفاعی ادارے طاقتور اور مؤثر ہوں، مگر قومی پالیسی کی حتمی سمت آئین، منتخب حکومت اور قانون کے تحت طے ہو۔
— کابل ڈائری
