مواد پر جائیں

پاکستانی فضائی حملوں سے افغان عوام کی سوچ کیسے بدلتی ہے؟ سمیع یوسفزئی کے مؤقف کا تجزیہ

افغان امور کے صحافی سمیع یوسفزئی کے الجزیرہ کو دیے گئے بیانات کی روشنی میں سرحد پار حملے، طالبان کی سیاسی حکمت عملی اور شہری رائے عامہ کا جامع جائزہ۔

تحریر Margalla News Research Desk

شائع شدہ

تازہ کاری

4 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ

افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ہونے والے فضائی حملوں کے نتائج صرف فوجی کارروائی کی جگہ تک محدود نہیں رہتے۔ وہ افغانستان کے شہروں، سوشل میڈیا، خاندانوں اور سیاسی مکالمے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ افغان امور کے سینئر صحافی سمیع یوسفزئی نے جون 2026 میں الجزیرہ کو بتایا کہ پاکستانی کارروائیاں طالبان کے بارے میں افغان عوام کے موجودہ اختلافات کو کچھ عرصے کے لیے پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔

سمیع یوسفزئی کا بنیادی نکتہ قومی شناخت اور حکومت کی حمایت کے درمیان فرق ہے۔ ایک شہری طالبان کی تعلیم اور انسانی حقوق کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کرسکتا ہے، مگر اپنے ملک پر بیرونی حملے کی مخالفت بھی کر سکتا ہے۔ ان دونوں موقفوں کو ایک ہی سیاسی خانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان کے مطابق شہری ہلاکتوں کے بعد طالبان حکام یہ دلیل زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرسکتے ہیں کہ ان کی حکومت ملک کے دفاع کی علامت ہے۔ یہ ایک ممکنہ سیاسی فائدہ ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کو حقیقی عوامی تائید کتنی حاصل ہے اس کا درست پیمانہ صرف ایسے واقعات ہیں۔ آزاد سروے اور کھلی سیاسی سرگرمی کے بغیر عوامی رائے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

الجزیرہ کی متعلقہ رپورٹ میں پاکستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے حملوں، پاکستانی حکام کے ردعمل اور افغان حکام کے شہری نقصانات سے متعلق دعووں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کا حقیقی سلامتی خطرہ اس بحث سے غائب نہیں کیا جا سکتا۔ شہری اور سکیورٹی اہلکار مسلح حملوں میں مارے گئے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

لیکن ہر بڑے مسلح حملے کے فوری بعد سرحد پار جوابی کارروائی کرنے کی پالیسی کے بارے میں سوال اٹھتا ہے: کیا اس سے حملوں کا سلسلہ رک رہا ہے، یا نئی دشمنی اور زیادہ سرحدی بندشیں پیدا ہو رہی ہیں؟ اگر واضح اور قابلِ جانچ نتائج سامنے نہ آئیں تو حکمت عملی پر نظرثانی ضروری ہوتی ہے۔

افغان عوام کی تاریخی یادداشت میں بیرونی جنگوں کا بڑا کردار ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں سوویت جنگ، خانہ جنگی، امریکا کی مداخلت اور مہاجر زندگی نے قومی خودمختاری کے سوال کو گہرا کیا۔ ایسے ماحول میں بیرونی حملے سیاسی طور پر جلد علامتی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

سمیع یوسفزئی نے توجہ دلائی کہ طالبان کی بعض پالیسیوں کے سخت ناقدین بھی پاکستانی حملوں کے بعد قومی سرزمین کے تحفظ پر گفتگو کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ یہ نکتہ افغان رائے عامہ کی ایک ممکنہ سمت بیان کرتا ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ ہر افغان شہری ایک ہی طرح سوچتا ہے۔

اس صورت حال میں میڈیا پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ صرف حملے کے فوراً بعد کی سرکاری تصاویر یا بیانات کے ذریعے کسی ملک کو مکمل طور پر مجرم یا بری قرار دینا تحقیق نہیں۔ واقعے کی اصل جگہ، ہلاک افراد کی شناخت، عسکری ہدف، طبی شواہد اور آزاد مقامی شہادت کے درمیان احتیاط سے فرق رکھنا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان میں کاروباری، خاندانی اور لسانی روابط بھی موجود ہیں۔ سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو دشمن کی اجتماعی شناخت میں بدل دینا ان رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عام افغان یا پاکستانی کے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا ایک ساتھ ممکن ہے۔

دونوں حکومتوں کے لیے قابلِ عمل راستہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے شواہد پر بات، شہریوں کے تحفظ کی مشترکہ ضمانت، تجارتی راہداریوں کی پیش گوئی کے قابل سہولت اور مستقل سفارتی رابطہ ہے۔ وقتی جنگ بندی سے زیادہ اہم اس کا نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی کا طریقہ ہوگا۔

سمیع یوسفزئی کا الجزیرہ کو دیا گیا بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ خارجی طاقت کے استعمال کے اندرونی سیاسی اثرات کو سامنے لاتا ہے۔ یہ کسی مخصوص حملے کی آزاد جنگی تحقیق نہیں، بلکہ افغان معاشرے کے ردعمل کے بارے میں ایک صحافی کا مشاہدہ ہے۔ اس مشاہدے کو وسیع زمینی تحقیق کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: سمیع یوسفزئی کی تحقیق، اصل کالم یا شائع شدہ گفتگو سے حاصل ہونے والی رہنمائی کے لیے شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی مستقل اردو تحریر ہے، مکمل ترجمہ نہیں۔ جہاں اصل ماخذ کسی دوسرے صحافی کا انٹرویو یا رپورٹ ہے وہاں اسے اصل مصنف کی اپنی لکھی ہوئی تحریر نہیں بتایا گیا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/sami-yousafzai-pakistani-airstrikes-afghan-public-opinion-analysis-2026?lang=ur