مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
جنگ اور مسلح شورش کے علاقوں میں سب سے مشکل کام درست اور آزاد خبر تک پہنچنا ہوتا ہے۔ ایک طرف سکیورٹی خدشات صحافیوں کی آمدورفت محدود کرتے ہیں، دوسری طرف ریاستی یا غیرریاستی فریق چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے مؤقف کو زیادہ جگہ ملے۔ پاکستانی صحافی طہٰ صدیقی نے جنوری 2019 میں اس مسئلے پر لکھتے ہوئے فوج کی نگرانی میں قبائلی علاقوں کے صحافتی دوروں کے فوائد اور خطرات کو تنقید کا موضوع بنایا تھا۔
طہٰ صدیقی نے شمالی وزیرستان میں صحافیوں کے ایک منظم دورے کی مثال دی اور سوال اٹھایا کہ اگر کسی صحافی کو صرف پہلے سے منتخب مقامات دکھائے جائیں تو وہ علاقے کی مکمل صورتحال کیسے جان سکے گا۔ یہ تنقید اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرتی کہ شورش زدہ علاقوں میں صحافی کی حفاظت واقعی بڑا مسئلہ ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ حفاظت اور آزادانہ جانچ میں توازن کیسے قائم کیا جائے۔
مضمون میں پشتون تحفظ تحریک سے متعلق سماجی و انسانی حقوق کی شکایات بھی ذکر کی گئیں۔ ان میں ایک خاتون کے مبینہ بدسلوکی کے بیان کو عوامی بحث کا حصہ بنایا گیا تھا۔ یہ الزامات سنگین تھے؛ انہیں آزاد تحقیق، متعلقہ فریقوں کے جواب اور قانونی شواہد کے بغیر ثابت شدہ واقعہ کہنا مناسب نہیں۔
کسی جنگ زدہ علاقے میں عسکری حکام کی بریفنگ اہم ذریعہ ہوسکتی ہے لیکن واحد ذریعہ نہیں۔ مقامی شہری، ڈاکٹر، استاد، دکاندار، قبائلی نمائندے، متاثرہ خاندان اور آزاد انسانی حقوق کے مبصرین بھی مختلف پہلو سامنے لا سکتے ہیں۔ خبر میں ان کی قابلِ تصدیق شہادت کو جگہ ملنا ضروری ہے۔
طہٰ صدیقی نے اپنے سابق صحافتی تجربے کی روشنی میں بتایا کہ کسی منظم دورے میں صحافی کی نقل و حرکت اور ملاقاتوں پر پابندیاں نتیجے کو متاثر کرسکتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا کے بہت سے تنازعات میں سرکاری یا عسکری نگرانی میں صحافت کے لیے اسی نوعیت کے سوال پیدا ہوتے ہیں۔
میدانی رپورٹنگ میں جان کا تحفظ اور خبر کے حقوق دونوں اہم ہیں۔ بعض اوقات کسی خطرناک علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مدد کے بغیر صحافی کا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا، مگر خبر میں اس رسائی کی شرائط واضح کرنی چاہئیں۔ اگر رپورٹر آزادانہ کسی گاؤں یا متاثرہ خاندان تک نہیں پہنچ سکا تو اسے بتانا چاہیے کہ کن معلومات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سوشل میڈیا نے ایسے حالات میں نئے دروازے کھولے ہیں۔ مقامی شخص فون سے تصویر یا بیان پہنچا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط تاریخ والی ویڈیو، پرانی تصویر اور سیاسی پروپیگنڈا تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے مواد کی جگہ، وقت، اصل فائل، آزاد عینی شاہدین اور دوسری معلومات کے ساتھ تقابل ضروری ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں نے طویل مدت تک دہشت گردی، فوجی کارروائیوں اور نقل مکانی کا سامنا کیا ہے۔ مقامی معاشروں کا حق ہے کہ ان کے دکھ، تعلیمی مسائل، روزگار، صحت اور قانونی تحفظ کو محض سلامتی رپورٹوں کے حاشیے میں نہ رکھا جائے۔
ایک غیرجانبدار صحافتی اصول یہ ہے کہ ریاستی ادارے کو اپنا مؤقف دینے کا پورا موقع ملے اور اس کے ساتھ الزام لگانے والے کو بھی مناسب تحفظ حاصل ہو۔ صحافی کو تفتیش کار اور عدالت کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ثبوت، دعویٰ اور جواب کو واضح الگ رکھنا چاہیے۔
طہٰ صدیقی کا مضمون جنوری 2019 کی ایک مخصوص صورت حال کا تنقیدی ریکارڈ ہے۔ 2026 کے کسی نئے واقعے کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے اس سے براہِ راست نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ رپورٹنگ کی آزادی اور بااعتماد معلومات تک رسائی کے بنیادی اصول آج بھی کارآمد ہیں۔
صحافت کا مقصد کسی ایک طاقتور فریق کی فتح یا شکست دکھانا نہیں بلکہ شہریوں کو حقیقت کے قریب ترین قابلِ اعتماد تصویر فراہم کرنا ہے۔ یہی اصول پاکستان کے اندر، افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اور ہر دوسرے جنگ زدہ معاشرے میں یکساں لاگو ہوتا ہے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: طہٰ صدیقی کی تحقیق، اصل کالم یا شائع شدہ گفتگو سے حاصل ہونے والی رہنمائی کے لیے شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی مستقل اردو تحریر ہے، مکمل ترجمہ نہیں۔ جہاں اصل ماخذ کسی دوسرے صحافی کا انٹرویو یا رپورٹ ہے وہاں اسے اصل مصنف کی اپنی لکھی ہوئی تحریر نہیں بتایا گیا۔
