مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک مشکل سوال ہے کہ حکومت بدلنے کے باوجود سیاسی طاقت کے حقیقی مراکز کیوں نہیں بدلتے۔ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اگست 2023 میں فارن پالیسی کے مضمون میں عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی اور فوج کے سیاسی کردار کو اس بنیادی مسئلے سے جوڑ کر دیکھا تھا۔ ان کا استدلال ہے کہ پاکستان میں منتخب قیادت کے لیے سیاسی مقابلہ صرف دوسرے سیاست دانوں سے نہیں، غیرمنتخب طاقت کے مراکز سے بھی ہوتا ہے۔
حقانی خود پاکستان کے سفارتی نظام میں اہم منصب پر فائز رہے ہیں۔ اس لیے ان کی تحریر میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات، داخلی سیاست اور فوجی طاقت کا باہمی اثر نمایاں ہے۔ تاہم ان کے سیاسی پس منظر کو بھی قاری کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ ان کے ذاتی نتائج کو واحد غیرجانبدار تشریح نہ سمجھا جائے۔
پاکستان میں 1958، 1977 اور 1999 کی فوجی مداخلتیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ بعد کے ادوار میں براہِ راست مارشل لا کے بجائے منتخب حکومتوں اور مقتدر اداروں کے تعلق پر بحث جاری رہی۔ یہ بحث صرف کسی ایک وزیر اعظم کے دور سے متعلق نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ آئین کے مطابق پالیسی سازی اور جواب دہی کیسے کام کرتی ہے۔
حسین حقانی کے مضمون میں عمران خان کی سزا کو ایک وسیع سیاسی نمونے کے ساتھ جوڑا گیا۔ ان کے نزدیک سیاسی رہنماؤں کو پہلے غیرمعمولی حمایت ملنا اور بعد میں شدید قانونی و سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پاکستان میں طاقت کے توازن کی مسلسل صورتوں میں سے ایک ہے۔ تاہم ہر مقدمے میں الزام، ثبوت، عدالتی کارروائی اور اپیل کی آزاد جانچ لازم ہے۔
قومی سلامتی کے اداروں کا دفاع اور سرحدی سلامتی میں کردار اپنی جگہ اہم ہے۔ پاکستان نے مسلح حملوں میں بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اس لیے فوج کے پیشہ ورانہ کردار پر تنقید اور اس کے اہلکاروں کی قربانیوں کے احترام میں کوئی لازمی تضاد نہیں۔ زیر بحث اصل مسئلہ عسکری اداروں کے آئینی اختیارات اور ان کی سیاسی حد ہے۔
منتخب حکومتوں کو بھی اپنے کردار کا احتساب کرنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت کی کمی، مخالف رہنماؤں کے لیے غیرمساوی سلوک اور کمزور احتسابی عمل صرف غیرمنتخب مداخلت کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتے۔ جب سیاسی قیادت خود قانون کو محض حریف کے خلاف استعمال کرے تو جمہوری اداروں کی ساکھ مزید متاثر ہوتی ہے۔
حقانی کے تجزیے میں ریاستی تسلسل ایک اہم تصور ہے۔ خارجہ پالیسی میں افغانستان، امریکا، چین اور بھارت سے تعلقات ایسے شعبے ہیں جہاں قیادت کی تبدیلی کے باوجود بنیادی ترجیحات اکثر یکساں رہتی ہیں۔ بعض اوقات تسلسل مفید ہوتا ہے؛ مسئلہ تب بنتا ہے جب متعلقہ فیصلوں کا اختیار اور جواب دہی واضح نہ ہو۔
معاشی استحکام بھی اسی بحث سے جڑا ہے۔ کاروبار اور سرمایہ کاری کو قابلِ اعتماد قانون، سیاسی پیش گوئی اور آزاد عدالتی فیصلے چاہیے ہوتے ہیں۔ طاقت کے مختلف مراکز میں کھینچا تانی بجٹ، ٹیکس، قرضوں اور صنعتی پالیسی میں غیر یقینی بڑھا سکتی ہے۔
ایک مضبوط آئینی نظام میں قومی سلامتی کے فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی، عدالتی آزادی، شہری حقوق اور سیاسی جماعتوں کے لیے مساوی انتخابی مواقع ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ ایسے ادارے فوج کے عملی تجربے سے فائدہ اٹھانے کے باوجود حتمی سیاسی جواب دہی منتخب قیادت کے پاس رکھتے ہیں۔
حسین حقانی کی تنقید کو پڑھنے والا قاری اس سے اتفاق یا اختلاف کرسکتا ہے۔ مگر یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آیا ہر حکومت کو آئینی حدود کے اندر یکساں آزادی حاصل ہوتی ہے اور کیا عام شہری قانون کے سامنے ریاست کے ہر طاقتور ادارے سے جواب طلب کرسکتا ہے۔
اس مضمون کے اصل ماخذ کی تاریخ 9 اگست 2023 ہے۔ اس کی تاریخی بحث کو 2026 میں جاری واقعات کا براہِ راست ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ نئی سیاسی صورت حال جانچنے کے لیے تازہ عدالتی فیصلے، حکومتی بیان اور آزاد انتخابی ریکارڈ الگ درکار ہیں۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: حسین حقانی کی تحقیق، اصل کالم یا شائع شدہ گفتگو سے حاصل ہونے والی رہنمائی کے لیے شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی مستقل اردو تحریر ہے، مکمل ترجمہ نہیں۔ جہاں اصل ماخذ کسی دوسرے صحافی کا انٹرویو یا رپورٹ ہے وہاں اسے اصل مصنف کی اپنی لکھی ہوئی تحریر نہیں بتایا گیا۔
