مواد پر جائیں

افغانستان پر فضائی حملے طالبان کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرسکتے ہیں؟ انتونیو جیوستوزی کے مؤقف کا جائزہ

محقق انتونیو جیوستوزی کے گارڈین کو دیے گئے بیانات کے تناظر میں پاکستانی فضائی حملوں، افغان قوم پرستی، طالبان کی سیاسی حیثیت اور ٹی ٹی پی کے مسئلے کا جائزہ۔

تحریر Margalla News Research Desk

شائع شدہ

تازہ کاری

3 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ

ریاستی طاقت کے استعمال میں ایک بنیادی سوال ہے کہ کسی فضائی کارروائی سے حاصل ہونے والا فوری عسکری فائدہ سیاسی طور پر بھی فائدہ مند ہوتا ہے یا نہیں۔ افغانستان کے امور کے محقق انتونیو جیوستوزی نے فروری 2026 میں گارڈین سے گفتگو کے دوران پاکستانی حملوں کے ممکنہ سیاسی نتائج پر توجہ دلائی۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں طالبان قیادت کو دباؤ میں لانے کے بجائے افغان قوم پرستی کے جذبات کو بڑھا سکتی ہیں۔

انتونیو جیوستوزی طالبان کے اندرونی دھڑوں، مقامی طاقت کے نیٹ ورکس اور جنگی سیاست پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔ ان کا تجزیہ صرف عسکری ہدف تک محدود نہیں؛ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کسی حملے کے بعد متعلقہ حکومت، مخالف گروہ اور عام شہری کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں مسلح تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا داخلی حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو اپنی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ قرار دیتا ہے۔ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور پاکستانی حملوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی بتاتی ہے۔

جیوستوزی نے کہا تھا کہ طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کے لیے بیرونی حملے کا جواب نہ دینا اپنی سیاسی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوسکتا ہے۔ ان کی رائے میں حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے اندر قومی یکجہتی کی لہر طالبان کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتی ہے۔ یہ سیاسی اثرات کی تشریح ہے، کسی عوامی رائے شماری کا حتمی نتیجہ نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ افغان عوام طالبان کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف اعتراضات بدستور موجود ہیں۔ تاہم جب کسی ملک پر بیرونی حملہ ہو تو لوگوں کی فوری توجہ قومی سرزمین اور شہری ہلاکتوں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے، چاہے ان کے اندرونی سیاسی اختلافات باقی رہیں۔

مسلح تنازعات میں اسی طرح کے ردعمل کو سیاسی سطح پر سمجھنا اہم ہوتا ہے۔ کسی حملے کے بعد اگر مقامی آبادی حملہ آور ریاست کو زیادہ بڑا خطرہ سمجھنے لگے تو متعلقہ عسکری کارروائی بعض اوقات مخالف قیادت کو ایک نئی سیاسی دلیل بھی فراہم کر سکتی ہے۔

جیوستوزی کے بیانات میں بلوچستان کی مسلح شورش سے متعلق بھی دعوے سامنے آئے۔ ان کا تعلق مخصوص مسلح گروہوں اور مبینہ علاقائی مدد سے ہے۔ ایسے حساس دعووں کو آزاد معلومات اور متعلقہ ریاستوں کے مؤقف کے بغیر قطعی حقیقت قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے اس صورت حال کے معاشی نقصانات واضح ہیں: سرحد بندشیں، رسد میں تاخیر، بازار میں اشیا کی کمی اور سرحدی شہروں کے کارکنوں کی آمدنی کا متاثر ہونا۔ جنگی کشیدگی جتنی طویل ہو، مذاکرات کی سیاسی قیمت دونوں طرف بڑھ سکتی ہے۔

سلامتی کی حکمت عملی میں اس لیے تین الگ پیمانے درکار ہیں: آیا مطلوبہ عسکری ہدف واقعی متاثر ہوا، آیا پاکستان میں مسلح حملوں میں پائیدار کمی آئی، اور آیا افغانستان کے شہریوں کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوئے یا بہتر۔ کسی ایک پیمانے پر کامیابی باقی دو کی ناکامی کی تلافی نہیں کرتی۔

اس سے نکلنے کا ممکنہ راستہ قابلِ اعتبار سرحدی رابطہ، مخصوص مسلح سرگرمیوں پر شواہد کا تبادلہ اور شہری ہلاکتوں کی آزادانہ جانچ ہے۔ جنگ بندی اور مذاکرات کا انتظام اس طرح ہونا چاہیے کہ کسی بھی واقعے کے بعد رابطے کا پورا نظام منقطع نہ ہو۔

انتونیو جیوستوزی کے مؤقف سے ایک اہم سبق نکلتا ہے: فضائی حملے کے سیاسی نتیجے کا جائزہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کے فوجی نتیجے کا۔ افغان قوم پرستی یا طالبان کی داخلی حیثیت پر اثر کا اصل پیمانہ وقت، زمینی شواہد اور شہریوں کے آزادانہ تجربات سے ہی طے ہوگا۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: انتونیو جیوستوزی کی تحقیق، اصل کالم یا شائع شدہ گفتگو سے حاصل ہونے والی رہنمائی کے لیے شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی مستقل اردو تحریر ہے، مکمل ترجمہ نہیں۔ جہاں اصل ماخذ کسی دوسرے صحافی کا انٹرویو یا رپورٹ ہے وہاں اسے اصل مصنف کی اپنی لکھی ہوئی تحریر نہیں بتایا گیا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/antonio-giustozzi-pakistan-taliban-airstrikes-afghan-nationalism-analysis-2026?lang=ur