مواد پر جائیں

معاہدۂ بدر: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دفاعی شراکت دار

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے بدھ 21 اکتوبر کو دوحہ میں "بدر مفاہمتی یادداشت" پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دفاعی پیداوار، عسکری صلاحیتوں، تربیت اور تحقیق میں تعاون بڑھانا ہے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

جیو نیوز پر شائع خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے "بدر مفاہمتی یادداشت" کا نام دیا گیا ہے۔ ترک وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں اس معاہدے کی تصدیق کی۔

دستخط کرنے والے

تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کی، جبکہ ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن بن حسن آل ثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہری نے اپنے اپنے ملکوں کی جانب سے دستخط کیے۔

معاہدے میں کیا ہے؟

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق یہ معاہدہ عسکری پیداوار میں تعاون، فوجی صلاحیتوں میں اضافے اور تکنیکی عسکری تربیت، تحقیق و ترقی میں اشتراک کو فروغ دے گا۔ وزارت نے اسے معاشی اعتبار سے بھی خاصا اہم قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہر ملک کی منفرد دفاعی پیداواری صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر یہ اقدام باہمی انضمام کو آسان بنائے گا، دفاعی صنعتوں کی استعداد بڑھائے گا اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا۔

علاقائی پس منظر

روئٹرز کے مطابق نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج اور مضبوط دفاعی صنعت رکھنے والا ترکیہ، ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے تناظر میں قطر سمیت خلیجی ممالک کو اپنے دفاع مضبوط کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ قطر میں ترکیہ کا ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔

اسی برس اگست میں ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ انڈونیشیا کے ساتھ بھی ترکیہ کے قریبی دفاعی صنعتی تعلقات ہیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-21-badr-accord-pakistan-turkiye-qatar-indonesia-defence?lang=ur

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔