وار مانیٹر کے مطابق جمعرات کو ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ میں پولیس اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران الدین اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر افضل اعوان جان کی بازی ہار گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ میں دو مشتبہ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
زخمیوں کی خبر سے اموات تک
دن کے آغاز میں وار مانیٹر نے اطلاع دی تھی کہ چاربرے کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ چند گھنٹوں بعد اسی واقعے کے بارے میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین اور ایس ایچ او افضل اعوان دم توڑ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر دونوں افسران کی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم وار مانیٹر کے مطابق یہ تصاویر بذات خود ان کی موت کی تصدیق نہیں کرتیں۔ مارے جانے والے مشتبہ عسکریت پسندوں کی شناخت بھی سامنے نہیں آئی۔
ٹی ٹی پی کا دعویٰ: تیسرا اہلکار بھی ہلاک
وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جمعرات کو جاری بیان میں چارپارہ بہادر خیل کے علاقے میں پولیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ گروہ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ڈی ایس پی عمران الدین، ایس ایچ او افضل اعوان اور کانسٹیبل کاظم ہلاک ہوئے، اور یہ کہ اس کے ارکان افسر کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
بیان میں ڈی ایس پی پر جعلی مقابلوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا، جس کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔ گروہ نے پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیوں سے الگ ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔
تصدیق کا انتظار
ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اور حملے کے حالات کی تاحال سرکاری یا آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ کرک کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
تازہ پیش رفت: ٹی ٹی پی کا انعام کا اعلان
جمعرات کی شام وار مانیٹر نے اطلاع دی کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے ڈی ایس پی عمران الدین کے قتل میں مبینہ طور پر شریک اپنے ارکان کے لیے دو لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ گروہ سے منسوب بیان کے مطابق یہ انعام اس کے سربراہ مفتی ابو منصور عاصم کی منظوری سے دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان اسی گروہ کے اس سابقہ دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں بانڈہ داؤد شاہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ انعام کے اعلان اور حملے کے حالات، دونوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
