مواد پر جائیں

ٹائپ 1 ذیابیطس کی انسولین کی قلت، سپلائی رکی

پارلیمانی سیکرٹری صحت نیلسن عظیم نے جمعے کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی انسولین کی ایک قسم جرمن مینوفیکچرر کی جانب سے سپلائی روکنے کے باعث پاکستان میں کم پڑ گئی ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

ٹائپ 1 ذیابیطس کے جو مریض برسوں سے ایک ہی انسولین پر انحصار کرتے آئے ہیں، ان کے لیے اکتوبر پریشانی کا مہینہ بن گیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نیلسن عظیم نے جمعے کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ اس مرض میں استعمال ہونے والی انسولین کی ایک قسم ملک میں کم پڑ گئی ہے، کیونکہ اس کے جرمن مینوفیکچرر نے اپنی مصنوعات کی اپ گریڈیشن کے دوران سپلائی روک دی ہے۔

یہ معاملہ رکنِ قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول نے ایوان میں اٹھایا۔ جواب میں نیلسن عظیم نے کہا کہ جون تک کوئی قلت نہیں تھی اور ستمبر تک ذخیرہ موجود تھا، تاہم اکتوبر میں جرمنی سے سپلائی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا: ’’اس قلت کا اثر صرف یہاں نہیں بلکہ پورے ایشیا، آسٹریلیا اور یورپ میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سپلائی بحال ہوتے ہی یہ دوا دستیاب ہو جائے گی۔‘‘

پارلیمانی سیکرٹری کے مطابق مینوفیکچرر پہلے 3,500 کٹس فراہم کرتا تھا جو اب کم ہو کر 1,000 رہ گئی ہیں، اور ایک سال پر محیط اپ گریڈیشن کے دوران ان میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت نے درآمد کنندگان سے سپلائی کا بندوبست کرنے کو کہا ہے، تاہم پیداوار رکنے کی وجہ سے یہ مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی خوراک اور طریقۂ اثر والی متبادل انسولین ملک میں دستیاب ہیں اور مریض ڈاکٹر کے مشورے سے ان پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

آمنہ بتول نے اس پر تشویش ظاہر کی کہ متبادل ادویات کم از کم 20 فیصد مہنگی ہیں اور بہت سے مریضوں کو ڈاکٹر تک رسائی بھی حاصل نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارتِ صحت یا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے ان متبادل کی آسان دستیابی یقینی بنائی ہے۔

اس سے قبل منگل کو حکام نے ملک گیر قلت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ایک برانڈ، انسولین گلولیسین (اپیڈرا)، بین الاقوامی سپلائی کی رکاوٹوں کے باعث دستیاب نہیں، جبکہ اسی درجے کی تیز اثر انسولین، یعنی انسولین ایسپارٹ اور انسولین لسپرو، دستیاب ہیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-23-insulin-glulisine-shortage-national-assembly-germany-supply?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں