وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے خیبرپختونخوا کے تین اضلاع، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر اور جنوبی وزیرستان، میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر پانچ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروہ سے منسوب بیانات 22 اکتوبر کو سامنے آئے اور ان کے مطابق یہ کارروائیاں 21 اکتوبر کو کی گئیں۔
گروہ کے دعوے کیا ہیں؟
ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں امن میلہ چیک پوسٹ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا، جبکہ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میدان میں ایک فوجی چوکی پر حملے میں ایک اور اہلکار ہلاک ہوا۔
جنوبی وزیرستان میں گروہ نے توئی خلہ کے علاقے میں حملے کے دوران ایک اہلکار کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے علاوہ شکئی اور بدر میں سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں ممکنہ جانی نقصان اور فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر گروہ کے مطابق تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ان حملوں، ہلاکتوں یا نقصان کی کوئی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
مہمند: کمانڈر ذوالقرنین محسود کی ہلاکت کا دعویٰ
دوسری جانب وار مانیٹر کے مطابق حکومت کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسند کمانڈر ذوالقرنین محسود 21 اکتوبر کو ضلع مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا اور اسی روز مہمند میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ یہ دعویٰ ایکس اکاؤنٹ The Insights Operation کی پوسٹ پر مبنی ہے، جس نے ہلاکت کے حالات کی قابل تصدیق تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس کارروائی یا جنازے کی کوئی سرکاری تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔
جنوبی پنجاب اور ویڈیو پیغام
وار مانیٹر (ایکس) کے مطابق سعد مہاجر سے منسوب ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے جنوبی پنجاب میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، اور اس میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جسے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی عوام کے نام پیغام بتایا جا رہا ہے۔ وار مانیٹر کے مطابق نہ بیان کے دعووں کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ویڈیو کے مستند ہونے کی۔
سرکاری مؤقف کا انتظار
آئی ایس پی آر یا خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی صورتحال بدستور قومی توجہ کا مرکز ہے۔
