خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعے کو کہا ہے کہ آئین کو تسلیم نہ کرنے والے عناصر سے نہ مذاکرات ہوں گے اور نہ انہیں کوئی رعایت دی جائے گی۔ ان کے مطابق صوبے میں امن کی بحالی کا واحد راستہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور پولیس کو مضبوط بنانا ہے۔
گورنر نے یہ بات چارسدہ میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین خان اور کانسٹیبل کاظم جان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔ دونوں اہلکار جمعرات کو ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہوئے تھے اور جمعے کو انہیں پولیس اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی دیہات میں سپردِ خاک کیا گیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحے اور آلات کی ضرورت ہے اور وہ اس مقصد کے لیے اپنے ترقیاتی فنڈز بھی دینے کو تیار ہیں۔ ان کے بقول وزیر داخلہ محسن نقوی نے یقین دلایا ہے کہ وفاق پولیس کو درکار اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کرے گا، جبکہ شہید اہلکاروں کا معاوضہ پیکج بڑھا دیا گیا ہے اور تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں پشاور کے گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ جمعرات کے اپیکس کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا اور گیس اور گندم کے مسائل پر جلد اجلاس بلانے کی ہدایت دی۔ گورنر کے مطابق چشمہ لفٹ کینال کے پیکج ایک اور چار کے ٹینڈر اگلے ماہ جاری ہوں گے۔ ’اگر صوبے میں امن ہوگا تو ترقی ہوگی اور باہر سے سرمایہ کاری بھی آئے گی،‘ انہوں نے کہا۔
