بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی کے قریب ہفتے کو دھماکوں سے بجلی کے دو ٹرانسمیشن ٹاور تباہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ ٹاور اوچ پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کرتے تھے، تاہم اب تک واضح نہیں کہ اس واقعے سے بجلی کی فراہمی کس حد تک متاثر ہوئی ہے۔ دھماکوں کی ذمہ داری بھی تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔
اسی دوران صوبے کے مکران ڈویژن میں تین مختلف مقامات سے لاشیں برآمد ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق پسنی میں کلانچ لنک روڈ پر تلار ہوٹل کے قریب ایک نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی۔ اس کی جیب سے ایک پرچی ملی جس پر ’ریحان‘ لکھا تھا، لیکن پولیس نے ابھی اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کی۔
تربت میں جوسک کے علاقے میں پولیس نے ایک ندی سے ایک شخص کی لاش نکال کر اسپتال منتقل کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جسم پر گولیوں کے نشانات تھے اور جائے وقوعہ سے ایک پستول بھی ملا ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
تیسری لاش تمپ میں کوہاڑ اور رودبن کے درمیان ہوشک آباد کے علاقے سے ملی، جس کی شناخت کوہاڑ کے رہائشی بلال ولد حنیف کے طور پر ہوئی۔ مقامی ذرائع نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے بعض الزامات بھی عائد کیے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور ان پر کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تینوں اموات کے حالات اور ٹاوروں پر حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں حکام کی جانب سے اب تک کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
