مواد پر جائیں

اردن کے شام پر فضائی حملے، 7 ہلاک

اردن نے پیر کو کرک کے چرچ پر حملے کے جواب میں جنوبی شام کے صوبوں درعا اور سویدا پر فضائی حملے کیے جن میں شامی حکام کے مطابق تین بچوں اور ایک خاتون سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

اردن نے پیر کی شام جنوبی شام کے صوبوں درعا اور سویدا میں فضائی حملے کیے، جنہیں اس نے گزشتہ ہفتے کرک کے چرچ پر ہونے والے خونریز حملے کا جواب قرار دیا۔ شام کی سول ڈیفنس کے مطابق ان حملوں میں تین بچوں اور ایک خاتون سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔

اردنی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوب مشرقی شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی شامی حکومت کے ساتھ رابطے میں کی گئی۔ تاہم شامی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن پیشگی رابطے یا اطلاع کے بغیر کیا گیا، اور اس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ شامی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے اسے "دھوکے پر مبنی حملہ" قرار دیا۔

سول ڈیفنس کے مطابق درعا کے گاؤں الطائی میں ایک خیمے پر حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، ایک مرد، ایک خاتون اور تین بچے، جان سے گئے جبکہ ایک بچے سمیت اسی خاندان کے تین افراد زخمی ہوئے۔ ایک اور حملے میں 80 سالہ بزرگ اور سویدا کے قصبے شہبا میں 60 سالہ شخص ہلاک ہوا۔

حملوں کے بعد شام نے اردن کے ساتھ نصیب کراسنگ دونوں جانب سے بند کر دی، جو دونوں ملکوں کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کی واحد گزرگاہ ہے۔

اس سے پہلے پیر ہی کو اردنی سکیورٹی فورسز نے چرچ حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو بھائیوں اور ان کے بہنوئی کو گاؤں الجدیدہ سے تقریباً تین گھنٹے کی فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کیا۔ جمعے کو کرک کے یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کے دوران تین مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم نو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد شاہ عبداللہ دوم نے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-27-jordan-strikes-syria-after-karak-church-attack?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں