سعودی قیادت والے اتحاد نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد نے یہ نہیں بتایا کہ میزائلوں کا ہدف کیا تھا اور نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیل دی۔
اس سے ایک روز قبل، پیر کو، اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے ریاض ریجن اور جنوبی سعودی عرب کی فضا میں تین ڈرون تباہ کیے، تاہم ان کے ماخذ یا ہدف کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اتحاد نے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر حملوں کا بھی اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ بیلسٹک میزائل لانچر، اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سرنگیں اور ایک میزائل ڈپو تباہ کر دیا گیا۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنا اور ان کی رسد کے راستے کاٹنا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں پر قبضے اور آبنائے باب المندب کی طرف پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے ان کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں۔ باب المندب خلیجی تیل برآمد کرنے والے ملکوں کے لیے عالمی جہاز رانی کا ایک اہم راستہ ہے۔
اس نئی لڑائی نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی اس جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے جس نے سعودی اتحاد اور صنعا پر قابض حوثیوں کے درمیان حملے بڑی حد تک روک دیے تھے۔ یہ کشیدگی ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ میں ایک نیا محاذ بھی کھول چکی ہے۔ اس سے قبل حوثیوں نے مکہ، مدینہ اور عدن ایئرپورٹ کی جانب میزائل بھی داغے تھے۔
