مواد پر جائیں

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہو گئے

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی کو متاثر کیا ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے بدھ 28 اکتوبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدرِ مملکت کو بھیجے گئے استعفے میں انہوں نے صحت سمیت ذاتی وجوہات کے ساتھ ساتھ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو اپنے فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس کیانی نے اپنے خط میں لکھا کہ ان کی سوچی سمجھی رائے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے کی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک عدالتی اداروں پر انتظامیہ کا بڑھتا ہوا کنٹرول دیکھا ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔

'ضمیر اجازت نہیں دیتا'

جسٹس کیانی نے عام سائل کی حالت پر خاص تشویش ظاہر کی اور لکھا کہ وہ نظامِ انصاف کا اصل فریق ہے مگر اس کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ان کا ضمیر انہیں بینچ پر رہنے کی اجازت نہیں دیتا، اور یہ فیصلہ تکلیف دہ ضرور ہے مگر ان کے اس یقین کا عکاس ہے کہ عدالتی منصب کو آزادی اور آئین سے وفاداری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اپنے دور میں انہوں نے 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے، اور اب وہ وکالت کی طرف واپس جا کر عوام کے حقوق کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

جسٹس کیانی دسمبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بنے تھے اور جبری گمشدگیوں اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات میں اپنے فیصلوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اس سال اپریل میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 27ویں ترمیم کے تحت ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ کرنے کی منظوری دی تھی، جو مئی میں عمل میں آیا۔ وہ ان چھ ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ 2032 میں ہونا تھی۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-28-justice-mohsin-akhtar-kayani-resigns-lhc?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں