مختلف مکاتبِ فکر کے علما، روحانی پیشواؤں اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے بدھ کو کوئٹہ میں ایک مشترکہ اعلامیے کے ذریعے خودکش حملوں، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے خلاف فتوے کی متفقہ طور پر دوبارہ توثیق کی اور قومی بیانیے "پیغامِ پاکستان" کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
یہ اعلامیہ قومی پیغامِ امن کمیٹی اور بلوچستان پیغامِ امن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں جاری کیا گیا جو جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں، بے گناہوں کا قتل ناجائز ہے اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ شرکا کے مطابق کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو مذہب، مسلک یا کسی نظریے کے نام پر خونریزی، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی یا قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں۔
اجلاس میں خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو دہشت گردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے مذہبی طور پر حرام، اخلاقی طور پر قابلِ نفرت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق جو لوگ نئی نسل کو گمراہ کر کے دہشت گردی کا آلہ بناتے ہیں وہ انسانی زندگی اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔
شرکا نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ واضح رہے کہ حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو فتنہ الخوارج جبکہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندوستان قرار دے چکی ہے۔ اجلاس نے بلوچستان میں امن، بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور مساجد و مدارس کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
